ٹھٹھہ: ویران جنگل میں مبینہ زمینوں پر قبضوں کا الزام، متاثرین کا محکمہ جنگلات اور پولیس سے کارروائی کا مطالبہ

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے)ٹھٹھہ کے ویران جنگل میں محکمہ جنگلات کی ملی بھگت سے غیر مقامی لوگوں کی یلغار، ہزاروں ایکڑ زمين پر قبضے کر لیے گئے۔ قبضہ مافیا نے مقامی لوگوں کا جینا مشکل بنا دیا۔ گھروں پر ہوائی فائرنگ، متاثرین کا ٹھٹہ میں احتجاج ان خیالات کا اظھار

سانپا موری کے قریب ویران جنگل کے رہائشی گاؤں والے رحیم ڈنو خاصخیلی، محمد شریف، علی شیر، کرم خان، عابد علی، عطا محمد خاصخیلی اور دیگر نے پریس کلب ٹھٹھہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کے وہ صدیوں سے بیلی ویران جنگل میں آباد ہیں۔ وہاں زمینیں آباد کر کے اپنے بچوں کا گزر بسر کر رہے ہیں۔ لیکن محکمہ جنگلات کی کرپٹ پالیسی کی وجہ سے اس وقت ویران جنگل میں غیر مقامی لوگ تیزی سے زمینوں پر قبضے کر کے صدیوں سے آباد مقامی گاؤں والوں کو بے دخل کرنے کی سازشیں شروع کر چکے ہیں۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 2022 میں آنے والے مری برادری کے بااثر لوگ عمر، حضور بخش اور دیگر نے ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ہمارے گھروں اور زمینوں کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ مذکورہ لوگ مختلف اوقات میں گھروں پر حملے کر کے فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔ بااثر لوگوں کی زیادتیوں کے خلاف معزز افراد سے فریاد کی ہے، لیکن کوئی بھی تدارک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور نہ ہی پولیس نوٹس لینے کے لیے تیار ہے۔ ڈی ایف او ٹھٹھہ اور ایس پی ٹھٹھہ کو بھی درخواستیں دی ہیں۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے بااثر افراد کے خلاف نوٹس لے کر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

مزید خبریں

Back to top button