زیرِیں سندھ کے اضلاع بدین،سجاول اور ٹنڈو محمد خان میں نہری پانی کی شدید قلت

ماتلی(رپورٹ ایم ارگدی/جانو ڈاٹ پی کے)زیرِیں سندھ کے اضلاع بدین، سجاول اور ٹنڈو محمد خان میں نہری پانی کی شدید قلت اور غیر یقینی فراہمی کے باعث زرعی صورتحال سنگین رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، جس سے نان باسمتی چاول کی بمپر فصل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کاشتکاروں اور محکمہ آبپاشی سے منسوب ذرائع کے مطابق گڈو بیراج کی سالانہ بندش کے بعد نہری نظام میں پانی کی فراہمی کے شیڈول میں خلل اور مجموعی قلت کے باعث صورتحال مزید بگڑنے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق اس وقت گڈو بیراج کے ڈاؤن اسٹریم سے 67 سے 76 ہزار کیوسک پانی سکھر بیراج کی جانب بہہ رہا ہے تاہم آئندہ دنوں میں اس میں مزید کمی متوقع ہے جبکہ غلام محمد (کوٹری) بیراج کے اپ اسٹریم میں پانی کی آمد محض 11 ہزار کیوسک تک محدود ہونے کی اطلاعات ہیں جس کے باعث کوٹری بیراج سے نکلنے والی اہم نہریں پھلیلی، پنیاری اور اکرم کینال میں پانی کی کمی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ان کے زیرِ انتظام درجنوں چھوٹی بڑی شاخیں خصوصاً ٹیل کے علاقوں میں شدید دباؤ کا شکار ہیں اور پانی کی عدم دستیابی کی شکایات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، ادھر صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب پھلیلی کینال میں قلت کے باوجود علی پور ریگولیٹر کے مقام پر اکرم کینال کو امدادی پانی کی فراہمی کے لیے نصب چھ گیٹوں والا ریگولیٹر تقریباً دو دو فٹ تک کھلا رکھا گیا ہے جس کے ذریعے پھلیلی کینال سے مسلسل ہزاروں کیوسک پانی اکرم کینال کی طرف منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر کاشتکاروں نے پانی کی تقسیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، کاشتکار حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی فراہمی بروقت بحال اور منصفانہ تقسیم یقینی نہ بنائی گئی تو ہزاروں ایکڑ اراضی پر چاول کی کاشت متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوگی بلکہ برآمدی ضروریات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سندھ میں زرعی شعبہ پہلے ہی مہنگی کھادوں، زرعی ادویات اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ پانی کی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے جو زرعی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، ادھر رائس انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کے مطابق اگر چاول کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو خطے کی تقریباً 800 سے زائد رائس ملیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدوروں کے روزگار، مل مالکان کے بینک قرضوں کی ادائیگی اور مجموعی زرعی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کاشتکاروں اور صنعتی حلقوں نے متعلقہ حکام سے فوری طور پر پانی کی منصفانہ تقسیم اور زرعی ضروریات کے مطابق فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا #

مزید خبریں

Back to top button