امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی معاہدہ، مرحلہ وار منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئیں

واشنگٹن / تہران(ویب ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئی جنگ بندی تجویز کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک مرحلہ وار معاہدے کے ذریعے تنازع کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور وسیع مذاکرات کے آغاز پر غور کر رہے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ ایک مفاہمتی یادداشت کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کی جائے گی، جبکہ تیسرے مرحلے میں 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہوگا جس میں اہم سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کو 14 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت ایران کو کم از کم 12 سال تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینا ہوگی، جبکہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ بھی حوالے کرنے کی شرط شامل ہے۔
معاہدے کے بدلے امریکا مرحلہ وار ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے اور بعض بحری پابندیاں بھی ختم کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کے 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں مکمل بحری سرگرمیوں کی بحالی پر بھی اتفاق ممکن ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور توانائی مارکیٹ میں استحکام آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں واضح کمی اور عالمی معیشت پر دباؤ میں نرمی متوقع ہے۔



