حملوں سے ایران پر کوئی بڑا اثر پڑنے یا اس کے مؤقف میں نرمی آنےکا امکان بہت کم ہے،امریکی انٹیلیجنس رپورٹ

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایران پر جاری امریکی فوجی حملوں سے ایرانی حکومت پر کوئی بڑا اثر پڑنے یا اس کے مذاکراتی مؤقف میں نرمی آنےکا امکان بہت کم ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نئی انٹیلیجنس رپورٹ جو بنیادی طور پر سی آئی اے نے تیار کی ہے، اس میں کہا گیا ہےکہ اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور اس کے فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا ہے، لیکن ایرانی حکومت اب بھی اپنی بقا برقرار رکھنےکی صلاحیت رکھتی ہے۔
مئی میں سی آئی اے کی ایک الگ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر امریکا ایران کا بحری محاصرہ بھی کرے تو بھی ایران کم از کم تین سے چار ماہ تک اس کا مقابلہ کرسکتا ہے، اس کے بعد ہی اسے شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
اخبار کے مطابق وسیع جنگ کے خدشات کے باوجود ایران اور امریکا دونوں نے نئے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اب تک کسی پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی حل چاہتا ہے، اور ایران کی حکومت کے بعض حلقے بھی اس کے لیے تیار ہیں، لیکن سخت گیر عناصر اس میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ امریکا کو ایرانی حکومتی شخصیات کی جانب سے براہ راست یہ پیغام ملا ہے کہ وہ سفارتی معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ سخت گیر عناصر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مسلسل یہ اشارے دے رہا ہے کہ وہ بات چیت اور مذاکرات چاہتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کا طرزِ عمل مختلف ہے۔ وہ بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جن کا ہمیں جواب دینا پڑ رہا ہے۔



