ٹھٹھہ میں سرکاری کوارٹر پر مبینہ قبضے کی کوشش، پولیس تعینات

ٹھٹھہ (رپورٹ: جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) محکمہ جنگلات کے ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) کے سرکاری بنگلے پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ قبضے کی کوشش کے معاملے نے صورتحال کو کشیدہ کردیا، جبکہ محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان تنازع کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔
ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ایک اہم افسر اور ڈی ایف او ٹھٹھہ کے درمیان محکمہ جنگلات کے مبینہ سرکاری کوارٹر پر قبضے کے معاملے پر تنازع پیدا ہوا۔ واقعے کے دوران مکلی اور سی آئی اے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جبکہ سرکاری بنگلے پر پولیس اہلکار بھی تعینات کردیئے گئے۔
محکمہ جنگلات کے ملازمین کی جانب سے مبینہ قبضے کے خلاف کوارٹر کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کی کوریج کے لیے پہنچنے والے سینئر صحافی اور نجی اردو ٹی وی چینل سے وابستہ صحافی تازہ گل اور آفاق ہالو کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور کیمرہ چھیننے کی کوشش بھی کی گئی۔
صحافیوں نے سی آئی اے سینٹر ٹھٹھہ کے انچارج ذلیدار خان کے مبینہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایس ایس پی ٹھٹھہ سے فوری طور پر ان کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر صحافیوں اشرف چنڈ میمن، یوسف دایو، سید نزاکت شاہ اور جاوید لطیف میمن نے کہا کہ صحافیوں اور عام شہریوں کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور بداخلاقی کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق مذکورہ واقعے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مکلی تھانے میں محکمہ جنگلات کے افسر اور عملے کے خلاف مقدمہ درج کرادیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلات کی جانب سے بھی ضلعی انتظامیہ کے خلاف ڈسٹرکٹ کورٹ ٹھٹھہ میں دفعہ 22-A کے تحت درخواست دائر کردی گئی ہے، جس میں سرکاری کوارٹر پر مبینہ قبضے اور پولیس کی جانب سے محکمہ جنگلات کے ملازمین سے مبینہ مارپیٹ کے معاملے پر کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
واقعے کے باعث محکمہ جنگلات اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ معاملے کے مختلف پہلوؤں پر قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔



