تھرپارکرمیں پینے کے پانی کی قلت،رن کنارے شدید مشکلات کا شکار،ٹینکرمافیاکاعروج

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھرپارکر ضلعہ بھر میں پینے کے پانی کی شدید قلت، تحصیل ننگرپارکر کے رن کنارے واقع گاؤں سارے کے رہائشی پینے کے صاف پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق تقریباً تین سو گھروں اور دس ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل یہ گاؤں آج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے۔ دیہاتیوں کے مطابق پہاڑ کے جنوبی جانب رن کے کنارے آباد اس گاؤں میں کھوسہ، تھیبا، رباری، مہاراج، ٹھاکر راجپوت، میگھواڑ اور دیگر برادریوں کے افراد رہائش پذیر ہیں۔ آبادی میں اضافے کے باعث مقامی کنوؤں کا پانی خشک اور ناکارہ ہو چکا ہے، جبکہ مویشیوں کے لیے کھارا پانی بھی نایاب ہو گیا ہے۔ گاؤں کے رہائشی سامتو رباری، کانھو رباری، سوڈھو رباری، کرشن سنگھ ٹھاکر، مکھی کرمون مہاراج، عنایت کھوسہ، رنچھو میگھواڑ اور سومجی میگھواڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پینے کا میٹھا پانی دس کلومیٹر دور آدھی گام اور واڈھی کی وانڈھی سے رکشوں کے ذریعے لایا جاتا ہے، جس کے لیے 50 سے 100 روپے فی کین ادا کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے موسم میں لوگ اور معصوم بچے پانی کے ایک گھونٹ کے لیے پریشان ہیں، جبکہ علاقے میں پانی کی شدید قلت کے باعث پرندے بھی پیاس سے مر رہے ہیں یا علاقہ چھوڑ کر ہجرت کر گئے ہیں۔ دوسری جانب دیہاتیوں نے شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سال سے زائد عرصہ قبل سرکاری اسپتال کی عمارت تعمیر ہو کر مکمل ہو چکی ہے، لیکن آج تک نہ کوئی ڈاکٹر تعینات کیا گیا ہے اور نہ ہی دیگر طبی عملہ مقرر کیا گیا ہے، جس کے باعث عمارت ویران پڑی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ننگرپارکر اسپتال جانا پڑتا ہے، جس سے وقت اور اخراجات دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گاؤں کے مکینوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں صابوسن میں پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ سہولیات ہر پاکستانی شہری کا بنیادی حق ہیں۔



