کلوئی کے قریب مرد و خواتین پر مبینہ وحشیانہ تشدد، خواتین کی بے حرمتی کے سنگین الزامات، متاثرین کا احتجاج

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) کلوئی کے نواحی گاؤں کاٹھو سے ایک انتہائی حساس اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں کولہی برادری سے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے بعض افراد پر مبینہ تشدد، ہراساں کرنے اور خواتین کی بے حرمتی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
مظاہرین کے مطابق آمیریو آمر ولد صابر، بہادریو ولد صابو آمر، واحد ڈنو ولد نبو آمر، رسول ولد نبو آمر، سومار اور دیگر افراد نے مبینہ طور پر خواتین کی بے حرمتی کی اور متاثرین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی، جبکہ ایک زخمی شخص کو شدید تشدد کے بعد تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
متاثرہ فریق نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پولیس حکام کے مطابق زخمی شخص کے علاج اور واقعے سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ الزامات کا سامنا کرنے والے فریق کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آ سکا ہے۔
سماجی اور انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں نے واقعے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر میڈیکل رپورٹس، شواہد اور تحقیقات کے دوران الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے۔
مقامی رہائشیوں اور متاثرہ فریق نے ریاستی اداروں سے اپیل کی ہے کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ ان کے بقول انصاف میں تاخیر بھی ناانصافی کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ خبر میں شامل تمام الزامات متاثرہ فریق کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔



