گودھیار جھگڑا: 15 گھنٹے دھرنا، پی پی تعلقہ صدر سمیت 19 افراد کے خلاف مقدمہ درج، ایک دوسرے پر شکار اور منشیات فروشی کے الزامات

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے) مٹھی کے قریب گاؤں گودھیار میں سومرا برادری کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد مسلسل 15 گھنٹے جاری رہنے والے دھرنے کے بعد تھرپارکر پولیس مقدمہ درج کرنے پر مجبور ہوگئی۔
داؤد علی ولد کلو سومرو کی مدعیت میں مٹھی پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی تعلقہ مٹھی کے صدر سراج سومرو، بھائی خان سومرو، غلام مرتضیٰ سومرو، سالم سومرو، ابوبکر، عزیز اللہ، سکندر، منور، حزب اللہ، مولا بخش، گل محمد، اکبر علی، غلام نبی، اسحاق، نور محمد، سلیمان سومرو اور عبدالرزاق عرف رجب چانڈیو سمیت 19 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق فریادی داؤد علی ولد علی قوم سومرو کی درخواست پر درج مقدمے میں دفعات 324، 452، 504، 337H2، 147، 148، 149، 114، 337Ai اور 337Fi پی پی سی کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
متاثرین نے مقدمہ درج ہونے کے بعد پھانگھاریو چیک پوسٹ پر جاری دھرنا ختم کردیا۔
یاد رہے کہ جمعہ کی صبح گاؤں گودھیار میں فائرنگ کے نتیجے میں تین بچوں سمیت 14 افراد زخمی ہوگئے تھے، جن میں سے بعض زخمیوں کو حیدرآباد اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ واقعے کے خلاف دیہاتیوں نے پہلے سول اسپتال مٹھی کے مرکزی گیٹ، پھر کشمیر چوک اور بعد ازاں پھانگھاریو چیک پوسٹ پر دھرنا دے کر سڑک بلاک کردی تھی۔ مسلسل 15 گھنٹے جاری رہنے والے دھرنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
دھرنے کے شرکاء سے ایم پی اے فقیر شیر محمد بلالانی نے مذاکرات کیے اور انصاف دلانے کی یقین دہانی کرائی، تاہم انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کی کہ یہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر ہے۔
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دونوں فریق پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ایک فریق ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی جبکہ دوسرا فریق ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب تعلقہ مٹھی کے صدر سراج سومرو نے الزام عائد کیا ہے کہ ارباب لطف اللہ کے حامی منشیات فروشی میں ملوث ہیں اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں، جبکہ ملانی گروپ پر ہرنوں کے شکار کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں۔



