قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے؟

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)قربانی کے لیے خوبصورت، صحت مند اور فربہ جانور کا انتخاب کرنا مستحب عمل ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بہترین چیز پیش کرنا فضیلت رکھتا ہے

خوبصورت جانور کی قربانی کے حوالے سے اہم نکات

افضلیت کامعیار

قربانی کا جانور جتنا زیادہ خوبصورت، صحت مند، تندرست اور عظیم(جسمانی طور پر بڑا)ہوگا،اس کی قربانی اتنی ہی زیادہ باعثِ فضیلت ہے۔

عیوب سے پاک ہونا

جانور کا خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تمام قسم کے واضح عیوب (جیسے کانا ہونا، لنگڑا ہونا، بہت زیادہ بوڑھا یا بیمار ہونا) سے سلامت ہونا ضروری ہے۔

بہترین جانور کا انتخاب

لوگ اکثر قربانی کے لیے منفرد رنگ، قد کاٹھ اور صحت مند جانور تلاش کرتے ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی جاتی ہیں۔ قربانی کے لیے چست اور اچھی نسل کے جانور (جیسے گائے، بیل، بکرا، دنبہ) کی قربانی کو پسند کیا جاتا ہے،جو دیکھنے میں نہ صرف خوبصورت ہوں بلکہ ان میں گوشت کی مقدار بھی زیادہ ہو۔

۔۔۔

شعائر اللہ کی تعظیم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کی نشانیوں (شعائر اللہ) کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ علماء کے مطابق قربانی کے لیے فربہ اور خوبصورت جانور کا انتخاب بھی شعائر اللہ کی تعظیم میں شامل ہے۔

سنتِ ابراہیمی اور نبویؐ

حضرت ابراہیمؑ نے ایک مینڈھا قربان کیا تھا،اور ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی قربانی کے لیے دو بڑے، سفید اور سینگوں والے مینڈھوں کا انتخاب کیا تھا،جو دیکھنے میں خوبصورت اور صحت مند تھے۔

افضلیت کا معیار

وہ جانور زیادہ افضل ہے جو جسمانی طور پر مکمل،فربہ، زیادہ گوشت والا اور دیکھنے میں اچھا ہو۔ امام کاسانیؒ کے مطابق عمدہ جانور اس لیے بہتر ہے کیونکہ یہ آخرت کے سفر میں آپ کی سواری ثابت ہوگا

نام و نمود سے بچنا

خوبصورت جانور خریدنا مستحسن ہے،لیکن نیت صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔اگر مقصد لوگوں کو دکھانا یا شہرت حاصل کرنا ہو تو یہ عمل فضیلت کھو دیتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button