شفا ہسپتال کیوں نہ لے جایا گیا؟طارق فضل نے عمران خان کی منتقلی پر بڑا راز کھول دیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرنے کے معاملے پر حکومت نے اپنا مؤقف واضح کردیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ سکیورٹی حالات اس قدر سنگین ہوگئے تھے کہ عمران خان کو شفا اسپتال لانا ممکن نہیں رہا تھا، اس لیے ڈاکٹرز کو پمز منتقل کیا گیا اور وہیں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کرایا گیا۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے من و عن عملدرآمد کا اعلان کیا تھا اور 20 اگست کو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔

ان کے مطابق شفا اسپتال میں ڈاکٹرز کا خصوصی بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جبکہ سکیورٹی کے بھی مکمل انتظامات کرلیے گئے تھے، تاہم بعد میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا لے جانا ممکن نہ رہا۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ عمران خان کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی سکیورٹی کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی حفاظت کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لیا۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق پمز میں ڈاکٹروں نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا، جس کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً 5 بجے انہیں پمز سے دوبارہ اڈیالہ جیل روانہ کردیا گیا۔

وفاقی وزیر نے ایک اور اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل بھی گزشتہ ایک ماہ کے دوران عمران خان کو 6 مرتبہ اسپتال لایا جاچکا ہے، جہاں انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئیں اور ان کا معائنہ و علاج کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی عمران خان کے علاج کے حوالے سے کبھی غیر ذمہ دارانہ پالیسی نہیں رہی اور بانی پی ٹی آئی بالکل صحت مند ہیں۔ ان کے بقول حکومت آئندہ بھی عمران خان کے علاج میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتے گی۔

پی ٹی آئی کے اعتراضات پر ردعمل دیتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے جو باتیں کی گئی ہیں وہ حقائق کے منافی ہیں۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے اور مستقبل میں بھی بانی پی ٹی آئی کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقل کرنے کا معاملہ جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے، وہیں حکومت اسے سکیورٹی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا فیصلہ قرار دے رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button