2037کی گرمی2026میں؟ایل نینو کی خطرناک ٹائم مشین

نہال معظم
سمندر کی نیلی گہرائیوں میں جب ایک پراسرار اور شعلہ فشاں لہر انگڑائی لیتی ہے تو دنیا اسے "ایل نینو” کے نام سے پکارتی ہے۔ یہ محض ایک قدرتی نزلہ زکام نہیں بلکہ بحرِ الکاہل کے دل میں اٹھنے والا وہ تپتا ہوا بخار ہے جو پورے سیارہِ زمین کی سانسیں بھاری کر دیتا ہے۔ پانی کا یہ روٹھا ہوا مزاج جب گرم ہواؤں کے ساتھ مل کر رقص کرتا ہے تو خشکی پر بسنے والی مخلوق کے لیے موسموں کا پورا نظام الٹ پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔ لوگ اکثر اسے اور گلوبل وارمنگ کو ایک ہی بلا سمجھتے ہیں، مگر ان دونوں میں ایک باریک اور گہرا فرق ہے۔ گلوبل وارمنگ انسان کے اپنے ہاتھوں تراشا ہوا وہ دُھواں ہے جو فضا کی چادر کو رفتہ رفتہ گرم کر کے زمین کو ایک تنور بنا رہا ہے، جبکہ ایل نینو قدرت کا اپنا ایک عجیب و غریب کھیل ہے جہاں زمین کے اپنے اندر موجود حرارت کا جغرافیہ بدل جاتا ہے اور گرمی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے لگتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ گلوبل وارمنگ مسلسل بڑھتا ہوا مستقل بخار ہے اور ایل نینو گرمی کا وہ اچانک اٹھنے والا طوفانی دورہ ہے جو اس بخار کی شدت کو دوچند کر دیتا ہے۔
امریکی ادارے NOAA (نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیئرک ایڈمنسٹریشن) کی تازہ ترین رپورٹ نے اس معاملے کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ایل نینو غیر معمولی تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے اور اس بات کے 90 فیصد سے زیادہ امکانات ہیں کہ شمالی نصف کرہ میں آنے والی خزاں اور موسمِ سرما کے دوران یہ اپنی تاریخ کے انتہائی مضبوط اور ہولناک ترین روپ میں سامنے آئے گا۔ اس کے اثرات کسی ایک خطے تک محدود نہیں ہوں گے؛ کہیں مہینوں بارش کا ایک قطرہ نہیں گرے گا اور زمینیں پیاس سے پھٹ جائیں گی، تو کہیں اتنے بادل برسیں گے کہ آبادیوں کی آبادیاں بہہ جائیں گی۔ اس پورے معاملے میں سب سے اہم بات سائنسدانوں کا وہ نکتہ ہے جس میں وہ اس شدت اختیار کرتے ایل نینو کو ایک "ٹائم مشین” کا نام دے رہے ہیں۔
اس ٹائم مشین کا مطلب کیا ہے؟ سائنس دان کہتے ہیں کہ صنعتی آلودگی کی وجہ سے زمین جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے، اس حساب سے کرہِ ارض کو 2 ڈگری سیلسیس کی خطرناک حد تک پہنچنے میں ابھی کم از کم ایک یا دو دہائیاں باقی تھیں—یعنی یہ ہولناک منظر 2037 کے قریب آنا تھا۔ لیکن موجودہ ایل نینو نے سمندر میں چھپی حرارت کو فضا میں یوں نچوڑ دیا ہے کہ ہم اگلے چند مہینوں میں ہی عارضی طور پر اس 2037 والی گرمی کا سامنا کرنے والے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی آپ کو ٹائم مشین میں بٹھا کر آئندہ کی دنیا میں لے جائے اور دکھائے کہ جب زمین کا درجہ حرارت بے قابو ہو جائے گا تو گرمی کی لہریں، فصلوں کی تباہی اور موسموں کا طوفان کیسا دکھائی دے گا۔ یہ ایک طرح سے قدرت کا دکھایا ہوا وہ ‘پریویو’ ہے جو ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو کچھ سالوں بعد ہماری روزمرہ زندگی ایسی ہی دھنکتی ہوئی آگ بن جائے گی۔
پاکستان کے لیے یہ ٹائم مشین کوئی خیالی کہانی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے۔ ہمارا ملک پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، اور جب ایل نینو کا یہ تھپیڑا یہاں پہنچتا ہے تو ہمارے بنیادی نظام ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایک طرف ہمالیہ کے گلیشیرز تیزی سے پگھلنے سے دریاؤں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو دوسری طرف زرعی علاقوں میں اچانک خشک سالی کا خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ کسان جو پہلے ہی موسم کا حساب لگانے میں پریشان تھا، اب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کب فصل کو پانی دینا ہے اور کب بادل سب کچھ بہا لے جائیں گے۔ ایل نینو کا یہ عارضی سفر ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اگر ہم نے موسمیاتی بقا کے لیے وقت پر قدم نہ اٹھائے، تو مستقبل کی یہ ہولناکی ہمارے سروں پر بالکل تیار کھڑی ہے۔



