ماتلی:ٹنڈو غلام علی میں تاریخی گدھوں کی منڈی سج گئی، لاکھوں روپے مالیت کے نایاب گدھے توجہ کا مرکز

ماتلی ( رپورٹ ایم آر گدی/جانو ڈاٹ پی کے): ماتلی کے قریب ٹنڈو غلام علی میں ہر سال کی طرح اس سال بھی 10 اور 11 محرم الحرام کے موقع پر ملک کی سب سے بڑی اور تاریخی گدھوں کی منڈی (پَڑی) اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ سج گئی ہے، جہاں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں تاجر، شوقین افراد، مال بردار مزدور اور خریدار پہنچے ہوئے ہیں۔ کئی دہائیوں سے لگنے والی اس منفرد منڈی میں ہر سال کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور نایاب نسل کے گدھوں کے ساتھ ساتھ روزگار کے لیے استعمال ہونے والے مال بردار گدھوں کی خرید و فروخت بھی بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے۔ منڈی میں اربیلائی، لاڑی، سفید، باکڑا، چیتی دار اور تھری نسل کے اعلیٰ معیار کے گدھے فروخت کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ تاجروں کے مطابق یہاں 40 ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک مالیت کے گدھے دستیاب ہیں، تاہم سب سے زیادہ خریدار ایک لاکھ 10 ہزار، ایک لاکھ 20 ہزار، ڈیڑھ لاکھ، ایک لاکھ 80 ہزار اور 2 لاکھ روپے تک کی قیمت والے مضبوط مال بردار گدھوں کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہی جانور ان کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ لاکھوں روپے مالیت کے تیز رفتار اور نایاب گدھے بھی منڈی کی خصوصی کشش ہیں، جنہیں دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے شوقین افراد آتے ہیں۔ منڈی کی ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے کہ یہاں گدھوں کو صرف باربرداری کا جانور نہیں سمجھا جاتا بلکہ انہیں ریس کے گھوڑوں کی طرح عزت دی جاتی ہے۔ مالکان اپنے جانوروں کو گھنگھرو، ریشمی دھاگوں، رنگ برنگی آرائش اور موتیوں سے سجا کر لاتے ہیں اور ان کے منفرد نام رکھتے ہیں۔ اس سال "مائیکل جیکسن”، "شاہین”، "بادل”، "دلبر”، "سلطان”، "راکٹ”، "مستانو” اور "پرنس” نامی گدھے خریداروں اور شائقین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ منڈی میں مال برداری کے لیے گدھا خریدنے آئے ایک خریدار نے بتایا کہ آج بھی تنگ گلیوں، زیر تعمیر مکانات، اینٹوں کے بھٹوں، مٹی، ریت، بجری اور دیگر تعمیراتی سامان کی ترسیل میں گدھوں کا استعمال چنگ چی رکشوں، لوڈر رکشوں، سوزوکی گاڑیوں اور دیگر چھوٹی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم خرچ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو لاکھ روپے تک مالیت کے ایک اچھے مال بردار گدھے پر روزانہ تقریباً 400 سے 500 روپے خوراک، چارہ اور دانہ پانی کی مد میں خرچ آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی آمدنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، ایک حصہ گدھے کی خوراک، دیکھ بھال اور دیگر اخراجات کے لیے جبکہ دوسرا گھر کے اخراجات اور بچت کے لیے رکھا جاتا ہے، اور سال بھر کی اسی بچت سے وہ ہر سال ایک نیا گدھا خرید لیتے ہیں، جس سے ان کے کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ سندھ کی چوہان برادری سمیت کئی محنت کش خاندانوں کا روزگار گدھوں کے ذریعے مال برداری سے وابستہ ہے۔ یہ لوگ اینٹوں کے بھٹوں، زیر تعمیر گھروں اور تنگ گلیوں میں اینٹیں، مٹی اور دیگر سامان پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جبکہ ان میں سے بعض افراد کے پاس 30، 40 بلکہ 50 تک گدھوں کے ریوڑ موجود ہوتے ہیں، جو ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ برادری ہر سال بڑی تعداد میں اس تاریخی منڈی کا رخ کرتی ہے تاکہ بہتر نسل، زیادہ طاقتور اور صحت مند گدھے خرید کر اپنے کاروبار کو وسعت دے سکے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے گدھا محض ایک جانور نہیں بلکہ ان کا وفادار ساتھی اور روزگار کا ضامن ہے، اسی لیے وہ اس کی بہترین دیکھ بھال، معیاری خوراک اور مناسب تربیت کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ منفرد روایات، کروڑوں روپے کے کاروبار، نایاب نسلوں، دلچسپ ناموں اور ہزاروں محنت کش خاندانوں کے روزگار سے جڑی اہمیت کے باعث ٹنڈو غلام علی کی یہ تاریخی گدھوں کی منڈی آج بھی پاکستان کی سب سے منفرد اور بڑی روایتی منڈیوں میں شمار کی جاتی ہے۔#

مزید خبریں

Back to top button