15سال سے مبینہ اغوا والد کی بازیابی کے لئے نوجوان کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)اوباڑو کے رہائشی نوجوان نے سکھر پریس کلب کے سامنے والد کے مبینہ اغواء کے خلاف احتجاج مظاہرہ کیا،  والد کا 15سال سے پتہ نہیں چل سکا،اعلیٰ حکام سے بازیابی کی اپیل کی گئی ہے۔

اوباڑو سے تعلق رکھنے والے محمد ذیشان قمبرانی نے اپنے والد شبیر احمد قمبرانی کے پراسرار اغواء کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے والد سوئی سدرن گیس کمپنی میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت کرتے تھے، جبکہ انہیں تصنیف و تحریر کا بھی بے حد شوق تھا۔محمد ذیشان قمبرانی کے مطابق ان کے والد شبیر احمد قمبرانی نے 2010 میں دو کتابیں — پیغامِ خوشحالی اور ممکن — تحریر کیں، جنہیں شائع کروانے کے لئے وہ اسلام آباد گئے تھے۔ تاہم اسلام آباد سے واپس آتے ہوئے مظفرگڑھ کے قریب ان کو گاڑی سمیت پُراسرار طور پر اغواء کر لیا گیا۔

’’آج مکمل 15 سال بعد بھی ہمارے والد کا کوئی سراغ نہیں ملا‘‘، محمد ذیشان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس عرصے میں نہ تو کسی اغواء کار کی جانب سے تاوان کی کوئی کال موصول ہوئی اور نہ ہی سندھ یا پنجاب کے کسی ادارے سے کوئی مدد یا تحقیقاتی پیش رفت سامنے آئی۔ ’’ہم نے سندھ اور پنجاب کے متعدد پریس کلبوں میں احتجاج کیے، مگر ہر جگہ سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا‘‘،

محمد ذیشان قمبرانی نے فیلڈ مارشل چیف آف آرمی اسٹاف، چیف جسٹس آف پاکستان، وزرائے اعلیٰ سندھ و پنجاب سمیت تمام ریاستی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور اپیل کی ہے کہ ان کے والد شبیر احمد قمبرانی کو فی الفور بحفاظت بازیاب کرایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاملے پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button