ساڑھے16 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کے شکار شخص کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر/پنوعاقل (جانوڈاٹ پی کے)گاؤں مانک جتوئی، تعلقہ پنوعاقل کے رہائشی عبدالوحید جتوئی نے 16 لاکھ 50 ہزار روپے کے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں شریک متاثرہ شخص نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جتوئی برادری سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ملزم غلام رسول ولد گلشیر احمد شیخ بااثر شیخ برادری کا فرد ہے، جو 2016 میں پارٹنرشپ کا جھانسہ دے کر بھاری رقم ہتھیا کر فرار ہوگیا۔

عبدالوحید جتوئی کے مطابق غلام رسول شیخ نے اینٹوں کا بھٹہ لگانے اور مشترکہ کاروبار شروع کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے مختلف اوقات میں مجموعی طور پر 16 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے۔ کچھ عرصے بعد جب حساب کتاب مانگا گیا تو ملزم نے ٹال مٹول سے کام لیا اور یقین دہانی کرائی کہ رقم محفوظ ہے۔ تاہم بعد ازاں وہ علاقے سے غائب ہوگیا اور مسلسل کوششوں کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اس نے واقعے کی رپورٹ تھانہ پنوعاقل میں درج کروائی، مگر چارہ جوئی کے بجائے الٹا اسے ہی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ پولیس رویے سے تنگ آ کر ڈی آئی جی سکھر کو درخواست دی، جس میں مبینہ فراڈ اور پولیس کی بےجا کارروائی سے آگاہ کیا، تاہم اس کے باوجود ملزم کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

عبدالوحید جتوئی نے بتایا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے عدالت بھی گیا مگر وہاں سے بھی مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔ مظاہرے کے دوران متاثرہ شخص نے دعویٰ کیا کہ ملزم بااثر ہونے کی وجہ سے قانون کی پہنچ سے دور ہے، جس کے باعث وہ آج بھی کھلے عام گھوم رہا ہے جبکہ اسے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔احتجاجی مظاہرے میں عبدالوحید جتوئی نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ غلام رسول شیخ کو فوری گرفتار کیا جائے، فراڈ میں ہتھیائی گئی 16 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم ریکور کر کے واپس دلائی جائے، اور اسے مکمل تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے۔متاثرہ شخص نے کہا کہ اگر بروقت انصاف نہ ملا تو وہ مزید سخت احتجاجی اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button