سپین میں پناہ گزینوں کیلئے قوانین سخت کرنے کی تیاری،ہزاروں تارکین وطن متاثر ہوں گے

میڈرڈ (جانو ڈاٹ پی کے)اسپین نے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں جولائی کے دوران بڑے پیمانے پر داخل ہونے والے تارکین وطن کے لیے پناہ کی درخواستوں کے طریقہ کار کو سخت اور تیز کرنے کی تیاری کرلی۔ رائٹرز کے مطابق ایک مسودہ حکم نامہ سامنے آیا ہے جس پر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
مجوزہ حکم نامے کا مقصد سیوتا میں موجود 10 ہزار سے زائد تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں اور ممکنہ ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ یہ اقدام اسپین کی موجودہ حکومت کی ہجرت سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جولائی کے آخر میں مراکش سے 70 ہزار سے زائد افراد زمینی اور سمندری راستوں سے سیوتا میں داخل ہوئے تھے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے یورپی رہنماؤں کی توجہ حاصل کی اور اسپین کے سرحدی نظام پر دباؤ بڑھا دیا۔
مجوزہ اقدامات کے تحت مسترد شدہ پناہ کی درخواست کے خلاف اپیل کرنے والے تارکین وطن کو، اگر یورپی یونین کی جانب سے متعلقہ ملک کو محفوظ قرار دیا گیا ہو، تو اسپین سے باہر رہتے ہوئے اپیل کرنا ہوگی۔ مسودے میں مراکش کو بھی ایسے ممالک میں شامل کرنے کی تجویز ہے، تاہم اس شق کا اطلاق ذاتی حالات سے قطع نظر کرنے کی بات کی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق حکومت پناہ کی درخواستوں کے جائزے کے لیے موجودہ معیاری طریقہ کار کو بھی نظرانداز کرسکتی ہے، جس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ جولائی کے آخر میں ہونے والی بڑے پیمانے کی آمد کے بعد اسپین پہنچنے والوں پر ان مجوزہ قواعد کا اطلاق ماضی سے بھی کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ ضابطے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی تارک وطن پانچ دن تک حکام کی پہنچ سے باہر رہے تو اس کی درخواست واپس لی گئی تصور کی جاسکتی ہے، جبکہ ’’پرتشدد یا دھمکی آمیز‘‘ رویے کے مرتکب قرار پانے والوں کا قیام کا حق فوری طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔



