سندھ میں پانی کی شدید کمی پر احتجاج، ارسا پر 1991 معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لسندھ کا ارسا کیجانب سے خریف سیزن میں صرف سندھ کے لئے پانی کی 27 فیصد کمی کرنے اور دریائے سندھ سے چشمہ جھلم اور ٹی پی لینک کینالز میں پانی کا بھاؤ 25 ہزار 5 سو کیوسک جاری رکھنے پر وفاقی حکومت سے احتجاج۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے ارسا کے اس عمل کو ٹیل والے صوبے سندھ کو بنجر بنانے اور پانی کے 1991ع معاھدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان خیالات کا اظھار انہوں نے منگل کو اپنے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔ نثار کھوڑو نے کہا کے ارسا نے خریف سیزن میں صرف سندھ کے لئے پانی کی 27 فیصد کمی کردی ہے جبکے پنجاب کے لئے پانی کی کمی زیرو کردی گئی ہے،ارسا کے اس عمل سے 70 فیصد زراعت پیدا کرنے والے سندھ صوبے کو اپنے پانی کے جائز حصے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کے سندھ صوبہ خریف سیزن میں 5۔5 ملین ٹن چاول کی فصل پیدا کرکے 4۔1 ارب ڈالرز کے چاول کی ایکسپورٹ کرکے ملکی معیشت میں اربوں روپے اپنا حصہ ڈالنے والہ ٹیل والہ صوبہ ہے اور ٹیل والے صوبے سندھ کے خریف کی سیزن میں پانی کے حصے میں کٹوتی کرکے سندھ کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کے خریف کی سیزن میں 1991ع کے پانی معاہدے کے تحت سندھ کو گڈو بئراج پر مجموعی طور 80 ہزارکیوسک سے زائد پانی ملنا چاہئے مگر اس کے برعکس سندھ کو گڈو بیراج پر منگل کے روز تک 65304 کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کے دریائے سندھ سے جہلم چناب زون کو چشمہ جھلم لنک کینال کے ذریعے 11900 کیوسک اور ٹی پی لنک کنالز کے ذریعے 9 ہزار کیوسک اسی طرح دونوں لنک کینالز کے ذریعے مجموعی طور پر 20,500 کیوسک پانی دیا جا رہا ہے جب کہ جھلم چناب زون کو منگلا ڈیم سے پانی فراہم کیا جا سکتا ہے مگر اس کے برعکس منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا جا رہا ہے جبکے سندھ میں اس وقت فصلوں کو خریف کے لئے پانی کی سخت ضرورت ہے اور یہ کوئی اصولی جواز نہیں بنتا کہ سندھ کو فصلوں کے لیئے پانی دینے کے بجائے ڈیمز میں ذخیرہ کیا جائے. نثار کھوڑو نے کہا کے واپڈا کیجانب سے بجلی کی پیداوار کے لئے ہائیڈل پاور پلانٹس کو پانی کی فراہمی مسلسل جاری رکھی جا رہی ہے جس کے باوجود ملک میں بجلی کا شارٹ فال موجود ہے۔ انہوں نے کہا کے پانی کی تقسیم کا ادارہ ارسا ہے تاہم پانی کی تقسیم واپڈا کی مرضی سے ہو رہی ہے اس لئے وفاقی حکومت یہ واضع کرے کے پانی کی تقسیم پر کنٹرول واپڈا کا ہے یا ارسا کا ہے؟ انہوں نے کہا کے آئین کے تحت پانی کی کمی سندھ اور پنجاب میں تقسیم کی جاتی ہے تاہم ارسا سندھ کے پانی کے حصے میں 27 فیصد کمی کرکے سندھ کو اپنے حصے کے پانی سے محروم رکھ رہا ہے اور ارسا ہمیشہ پانی کے 1991ع کے معاھدے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا ہے اس لئے وزیراعظم سندھ کے آواز پر ارسا کے اس عمل کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کے ایک طرف ایف بی آر کی ٹیکسز وصولی کا شارٹ فال 32 سو ارب ہے تو دوسری طرف ملکی خزانے میں حصہ ڈالنے والے زرعی شعبے کو تباہ کیا جارہا ہے اس لئے وفاقی حکومت زرعی شعبے کوسپورٹ کرے تاکے شارٹ فال پر قابو پایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button