دریائے سندھ سے6غیر قانونی نہریں نکالنے کے منصوبے کیخلاف سندھ کے عوام نے تاریخی دھرنا دیا،ڈاکٹر نیاز کالانی

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے )جیئے سندھ قومی محاذ (شہید بشیر خان گروپ) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے پنهل ساریو، امیر بخش سومرو، جاوید چانگ، تنویر کاتیار، غلام رسول انڑ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ بدین پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ سے چھ غیر قانونی نہریں (کینالز) نکالنے کے منصوبے کے خلاف ببرلو بائی پاس پر سندھ کے عوام نے تاریخی دھرنا دیا، جس میں لاکھوں سندھیوں نے واضح پیغام دیا کہ دریائے سندھ پر کسی بھی قسم کا ڈاکہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سندھی قوم کے اتحاد، جرات اور مسلسل جدوجہد کے باعث حکومت کو وقتی طور پر ان نہروں پر کام روکنا پڑا، تاہم اب پنجاب نے دوبارہ انہی منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے، جو سندھ کے عوام کے لیے باعث تشویش ہے ڈااکٹر نیاز کالانی نے الزام عائد کیا کہ 1972ء سے چشمہ-جہلم لنک کینال اور تونسہ-پنجند لنک کینال کے ذریعے دریائے سندھ کا پانی غیر قانونی طور پر پنجاب منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں سندھ کے زیریں علاقے، خصوصاً بدین، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹھہ شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں نہ صرف زراعت تباہ ہو رہی ہے بلکہ متعدد دیہات پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں، یہاں تک کہ بعض اوقات میت کو غسل دینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوتا انہوں نے مطالبہ کیا کہ چشمہ-جہلم لنک کینال اور تونسہ-پنجند لنک کینال کو فوری طور پر بند کیا جائے اور دریائے سندھ کے پانی پر ہونے والی مبینہ زیادتی کا خاتمہ کیا جائے۔

ڈاکٹر نیاز کالانی نے اعلان کیا کہ دریائے سندھ کے تحفظ کے لیے 8 جولائی کو سجاول میں جیئے سندھ قومی محاذ (شہید بشیر خان گروپ) کی جانب سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جس کے ذریعے سندھ کے عوام کا مؤقف دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے کی جانے والی سیاست کبھی کامیاب نہیں ہوگی انہوں نے سندھ کے حکمرانوں اور اسمبلی اراکین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی سندھ کے نمائندے ہیں تو پھر دریائے سندھ کے پانی، کوئلے، گیس اور دیگر قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے اسمبلیوں میں مؤثر آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی گیس، بجلی، پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پريا کماری کے اغوا کو پانچ سال گزر چکے ہیں، مگر آج تک اس کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی، جو سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بھر میں منشیات کی کھلے عام فروخت نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے، جبکہ بے روزگاری کے باعث نوجوان احتجاج پر مجبور ہیں، لیکن حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے

مزید خبریں

Back to top button