نوجوانوں کی ذہنی صحت،نفسیاتی الجھنوں اور منفی رویوں کے حوالے سے ایک اہم سیمینار

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)نوجوانوں کی ذہنی صحت، نفسیاتی الجھنوں اور منفی رویوں کے حوالے سے ایک اہم آگاہی سیمینار اسپورٹس کمپلیکس بدین کے ہال میں منعقد کیا گیا، جس میں کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نامور ماہرینِ نفسیات، ڈاکٹرز، یونیورسٹی نمائندوں اور سماجی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر الیاس جت نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ موجودہ دور میں ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر قلب حیدر نے کہا کہ آج کے دور میں انسان کے لیے دماغ سے درست انداز میں کام لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ مسلسل ذہنی دباؤ، پریشانی اور فکری انتشار ہے پروفیسر ڈاکٹر چنی لال نے کہا کہ نفسیاتی مسائل کو چھپانے کے بجائے ان کا بروقت علاج ضروری ہے، ورنہ یہ مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں سیمینار کے مہمانِ خصوصی سینیٹر کریم احمد خواجہ، چیئرمین سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی نے کہا کہ ذہنی صحت بھی بنیادی صحت کا حصہ ہے اور اس حوالے سے ڈاکٹروں کو خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو بھی کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو تو اسے چھپانے کے بجائے اپنے والدین اور اہلِ خانہ سے ضرور شیئر کرنا چاہیے انہو نے مزید بتایا کہ حیدرآباد میں خواتین کے لیے الگ وارڈ بھی موجود ہے، جہاں نشے سمیت مختلف نفسیاتی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طفیل چانڈیو، پرو وائس چانسلر، سندھ یونیورسٹی لاڑ کیمپس بدین، ڈاکٹر سومر کھوسو، عاشق خواجہ، عبد الستار میمن، ظفر مہدی، جانی طفیل میمن، کانتیش راہ اور عبدالجبار حبیبانی سمیت کئی سماجی رہنماؤں نے شرکت کی

ماہرین نے ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عیب سمجھنے کے بجائے ایک بیماری کے طور پر قبول کرنا چاہیے، کیونکہ بروقت علاج سے بڑے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوا، جس میں شرکاء کے سوالات کے تفصیلی جوابات ماہرینِ نفسیات نے دیے۔

مزید خبریں

Back to top button