ماتلی میں اسکولوں کے نئے اوقات پر والدین پریشان، چھٹی ڈھائی بجے کرنے پر نظرثانی کا مطالبہ

ماتلی (رپورٹر: اے ایم گدی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ حکومت کی جانب سے اسکولوں کے اوقات کار میں اضافے اور چھٹی ڈھائی بجے کرنے کے فیصلے کے باعث ماتلی میں طلبہ اور والدین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ دوپہر کے وقت اسکول سے واپسی پر بچوں کو کھانے اور آرام کے لیے مناسب وقت نہیں ملتا، جبکہ اسی دوران گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہونے سے دوپہر کا کھانا تیار کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
والدین کے مطابق ڈھائی بجے اسکول سے چھٹی کے بعد بچوں کو مدرسوں، ٹیوشن سینٹرز اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بھی شرکت کرنا ہوتی ہے، جس کے باعث ان کا پورا دن تعلیمی مصروفیات میں گزر جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گھر پہنچنے، کھانا کھانے اور دوبارہ تعلیمی اداروں میں جانے کے درمیان مناسب وقفہ نہ ہونے سے بچے ذہنی و جسمانی تھکن کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ ہوم ورک، مطالعے، کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے بھی وقت محدود رہ جاتا ہے۔
ماتلی کے والدین نے کہا کہ بچوں کی صحت مند ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے تعلیم کے ساتھ آرام، کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کا وقت بھی ضروری ہے۔ گرمی کے موسم اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکولوں کے اوقات کار مقرر کیے جانے چاہئیں۔
والدین نے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کے اوقات کار پر نظرثانی کرتے ہوئے چھٹی کا وقت سابقہ معمول کے مطابق ایک بجے یا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ بجے مقرر کیا جائے۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ بچوں کی تعلیمی ضروریات کے ساتھ ان کی جسمانی و ذہنی صحت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اسکول ٹائمنگ میں مناسب تبدیلی کی جائے۔



