بدین کی ٹیل میں پانی کا بحران سنگین، کسانوں نے نمازِ استسقاء ادا کر کے بارانِ رحمت کی دعا کر دی

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) ضلع بدین کی ٹیل میں نہری پانی کی شدید قلت، بارشوں میں طویل وقفے اور خشک سالی کے خدشات کے باعث زرعی بحران مزید سنگین ہو گیا، جس پر سینکڑوں کسانوں، زمینداروں اور شہریوں نے پادھر شاخ پر اجتماعی نمازِ استسقاء ادا کی۔

تفصیلات کے مطابق شادی سب ڈویژن کی پادھر شاخ سمیت ضلع بدین کے ٹیل علاقوں میں مسلسل پانی کی کمی کے باعث فصلیں متاثر ہونے لگیں۔ پانی کی عدم دستیابی سے پریشان کسانوں، آبادگاروں، معززین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کھلے میدان میں نمازِ استسقاء ادا کی اور اللہ تعالیٰ کے حضور بارانِ رحمت، نہری پانی کی بحالی، فصلوں کے تحفظ اور خطے میں خیر و برکت کے لیے خصوصی دعائیں مانگیں۔

نماز کے دوران شرکاء نے توبہ و استغفار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خشک سالی کا خاتمہ فرمائے، رحمت کی بارشیں عطا کرے اور پانی کے بحران سے نجات دے۔

علماء کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نمازِ استسقاء سنتِ نبوی ﷺ ہے، جو بارش کی کمی، قحط اور خشک سالی کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرنے کے لیے ادا کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ توبہ و استغفار اور نیک اعمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

مقامی آبادگاروں کا کہنا ہے کہ پادھر شاخ کے آخری سرے تک نہری پانی نہ پہنچنے کے باعث دھان، کپاس، چارہ اور دیگر فصلیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔ مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کی قلت بھی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔

کاشتکاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر آئندہ چند روز میں مؤثر بارشیں نہ ہوئیں اور نہری پانی کی فراہمی بہتر نہ بنائی گئی تو ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور کسانوں کی معاشی صورتحال مزید متاثر ہو گی۔

آبادگاروں نے محکمہ آبپاشی اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ شادی سب ڈویژن کی نہری شاخوں سمیت ضلع بدین کی ٹیل میں پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور پادھر شاخ کے آخری سرے تک فوری پانی پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

نمازِ استسقاء کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، سندھ میں اچھی بارشوں، پانی کے بحران کے خاتمے، زرعی خوشحالی، کسانوں کی فلاح اور امت مسلمہ کے اتحاد و استحکام کے لیے خصوصی اجتماعی دعائیں کی گئیں۔

مزید خبریں

Back to top button