منشیات معاشرے کیلئے زہر قاتل ہے،نور نبی راہوجون

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)عوامی جمہوری پارٹی کے مرکزی صدر نور نبی راہوجو ن نے منشیات کو معاشرے کیلئے زہر قراردیدیا۔
بدین میں منشیات کے خلاف منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہو نے کہا کہ سندھ میں منشیات کو ایک سازش کے تحت پھیلایا جا رہا ہے۔ اب صرف چور اور جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ نوجوانوں میں بھی منشیات کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نشہ صرف آئس، چرس اور شراب تک محدود نہیں رہا بلکہ نشہ آور دواؤں نے بھی سماج پر منفی اثرات ڈالے ہیں ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ کے باعث یہاں ایسے لوگ آئے جو منشیات بھی ساتھ لائے، جس کی وجہ سے سندھ میں منشیات کا استعمال تیزی سے بڑھ گیا۔ حکمرانوں نے انتظامی طور پر منشیات کے پھیلاؤ پر کوئی مؤثر روک نہیں لگائی، جس کے باعث نوجوانوں میں منشیات کا زہر تیزی سے پھیل رہا ہے پروفیسر طفیل احمد چانڈیو نے کہا کہ حکمران نوجوانوں کو منشیات سے بچانے میں سنجیدہ نہیں ہیں، اسی وجہ سے ملک میں منشیات ایک عام تجارتی شے کی طرح فروخت ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سروے کے مطابق اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں 53 فیصد، لاہور کے تعلیمی اداروں میں 57 فیصد، جبکہ ملک بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 10 فیصد طلبہ منشیات استعمال کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے ساتھ ساتھ منشیات کے مسئلے کو بھی اجاگر کریں تاکہ عملی طور پر منشیات کے کاروبار کو روکا جا سکے اور نوجوان نسل کو اس زہر سے بچایا جا سکے عوامی جمہوری پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری خادم ٹالپر، عاشق خواجہ، ڈاکٹر سومار کھوسو، ہارون گوپانگ، علی حیدر پنہور، دانش نور، سانول گوپانگ، میر بلیڈی اور دیگر مقررین نے کہا کہ سندھ میں منشیات کے عام ہونے سے نوجوانوں میں چرس، شراب، آئس، ہیروئن اور سفینا جیسی منشیات کے باعث منفی رجحانات بڑھ گئے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی اس صورتِ حال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث معاشرہ منشیات کے ایک بڑے ناسور کا شکار ہو چکا ہے۔
انہوں نے چیف جسٹس سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ سندھ، خصوصاً ضلع بدین میں منشیات کے بڑھتے کاروبار کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، منشیات کا کاروبار بند کیا جائے، اور نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔



