وادی کیلاش میں منفرد روایت: موت پرسوگ نہیں بلکہ جشن منایا جاتا ہے

چترال(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادی کیلاش میں موت کو سوگ کے بجائے خوشی کا موقع سمجھا جاتا ہے، جسے ’چیک تہوار‘ یا جشن کہا جاتا ہے۔

چترال میں آباد (کیلاش برادری) کا ماننا ہے کہ مرنے والا انسان زندگی کی تمام تکالیف سے آزاد ہوکر ایک نئی دنیا میں جا رہا ہے، اس لیے اسے بخوشی رخصت کیا جاتا ہے۔

یہ برادری اپنی منفرد ثقافت اور روایات کے باعث دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جو اپنے پیاروں کی موت کو غم نہیں بلکہ خوشی کے سفر کے طور پر دیکھتی ہے۔

زاویہ کی رپورٹ کے مطابق کیلاش وادی میں بسنے والے افراد موت کو آباؤ اجداد سے دوبارہ ملنے کا ایک خوشگوار سفر تصور کرتے ہیں۔

اسی سوچ کے تحت کسی فرد کے انتقال پر تین دن تک ماتم کے بجائے رقص، موسیقی اور ڈھول کی تھاپ پر جشن کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

روایات کے مطابق میت کو کمیونٹی ہال (جسے مقامی زبان میں “جستا خان” کہا جاتا ہے) میں رکھا جاتا ہے، جہاں لوگ روایتی رقص “پَلائے” پیش کرتے ہیں۔

اس دوران کمیونٹی اور اہل خانہ مشترکہ طور پر 30 سے 40 بکریاں قربان کرتے ہیں، جسے “شروگا” یعنی اجتماعی ضیافت کہا جاتا ہے، اس عمل کے ذریعے غمزدہ خاندان کی بھرپور مالی مدد بھی کی جاتی ہے۔

اگرچہ اس م،وقع پر میت کے قریبی عزیز روتے بھی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جشن کا ماحول بھی برقرار رہتا ہے، جسے ماہرین غم اور خوشی کا ایک منفرد امتزاج قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ سالوں کے دوران کی جانے والی تحقیقی رپورٹس (2022 تا 2025) کے مطابق ماضی میں میتوں کو لکڑی کے تابوت میں کھلا رکھا جاتا تھا، تاہم اب آبادی میں اضافے اور قریبی مسلم آبادیوں کے اثرات کے باعث تدفین کا رواج بڑھ رہا ہے۔

تدفین کے وقت میت کے ساتھ اس کی ذاتی اشیاء جیسے پھل، رقم یا دیگر سامان رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی زندگی کی نمائندگی ہوسکے۔

بعض مواقع پر لکڑی کا مجسمہ، جسے “گنڈاؤ” کہا جاتا ہے، بھی میت کے پاس رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی شناخت کو اجاگر کیا جاسکے، تاہم وقت کے ساتھ یہ روایت بھی کمزور پڑتی جارہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button