نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، 2 سابق وزرائے اعظم نے انتخابی اتحاد بنا لیا

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)نیتن یاہو کے سب سے بڑے حریفوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کیلیے انتخابی اتحاد بنا لیا جس سے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی حریفوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں موجود وزیر اعظم کی اتحادی حکومت کو شکست دینے کیلیے متحد ہو رہے ہیں۔
سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لیپڈ نے اپنے بیانات میں اپنی سیاسی جماعتوں بینیٹ 2026 اور دیئر از اے فیوچر کے انضمام کا اعلان کیا۔
اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اقدام کا مقصد اتحاد کو متحد کرنا، اندرونی اختلافات کو ختم کرنا اور تمام تر کوششیں آنے والے اہم انتخابات جیتنے اور اسرائیل کو مستقبل کی جانب لے جانے پر مرکوز کرنا ہے۔
نفتالی بینیٹ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نئی جماعت کا نام ’ٹوگیدر‘ رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ دونوں رہنما پہلے بھی متحد ہو چکے ہیں جب انہوں نے 2021 کے انتخابات میں نیتن یاہو کے مسلسل 12 سالہ دورِ اقتدار کا خاتمہ کیا تھا، تاہم ان کی وہ اتحادی حکومت بمشکل 18 ماہ ہی چل سکی تھی۔



