سندھ ترقی پسند پارٹی کا 20 ستمبر سے ’’سندھ میری ماں‘‘ رابطہ مہم شروع کرنے کا اعلان

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ/ پی کے)سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ ہماری ماں ہے پاکستان ہمارا ملک ہے اگر کسی پی سی او، مارشل لا ریگولیشن یا ریفرینڈم کے ذریعے سندھ  کی وحدت سالمیت پر وار کرنے کی سازش کی تو شہید کموں اباڑو سے کراچی تک 6 کروڑ عوام  سڑکوں پر نکل کر پنجاب سمیت پاکستان میں زندگی مفلوج دیں گے، محسن نقوی جیسے غیر ذمہ داروزیر نئے صوبے کے راگ کی شر انگیزی اور خالد مقبول صدیقی اور مصطفے کمال لسانی نفرت پھیلانے اور اسلحہ اٹھانے کی دھمکیاں دینے سے  باز آ جائیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر دیکھیں کہ بھارت سے جنگ میں مثالی فتح کے بعد پاکستان اورافواج کا عالمی طور پر  بڑھنے والے وقار اور استحکام کے خلاف کون سازش کر رہا ہے ایس ٹی پی 20 اکتوبر سے سندھ پھر کے عوام کو متحرک کرنے کے لئے ‘سندھ میری ماں’ رابطہ مہم شروع کر رہی ہے اور 11 اکتوبر کو حیدراباد میں سندھ قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں سیاسی جماعتوں سمیت زندگی کے ہر  شعبے کی شخصیات کو مدعو کیا جائے گا پیپلز پارٹی کو مدعو کرنے کا فیصلہ سندھ میں مستقل بسنے والے کوئی بھی زبان بولتے ہوں سندھی بھائی ہیں جن کو اپس میں لڑانے کی ہر سازش ناکام بنا دی جائے گی۔

وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، پریس کانفرنس میں انجینئر گلزار سومرو، ہوت خان گاڈھی، ڈاکٹر عبدالحمید میمن، قادر چنا، ڈاکٹر احمد نوناری، امتیاز سموں، ڈاکٹر سومار منگریو، محمد علی ابڑو، ڈاکٹر مظہر میمن، جان محمد جونیجو اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کہلانے والے غیر ذمہ دار شخص محسن نقوی کے ٹویٹس اور بیانات سے سندھ میں بدامنی  خوف عدم استحکام کی فضا پیدا ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے محسن نقوی، علیم خان، خواجہ اصف، احسن اقبال کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم ان کو کابینہ سے نکال کر ان سے پوچھ گچھ کریں گے اور حکومت کی پالیسی کو واضع کریں گے معاملہ پارلیمنٹ میں لے جائیں گے کہ سب صوبوں اور حلقوں کا موقف سامنے ا جائے لیکن وزیر اعظم گونگے بنے رہے ہیں جب کہ وہ اپنی زبان ہاتھ پاوں بے مقصد بے تحاشا استعمال کرتے رہتے ہیں، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ سندھ پاکستان کا خالق صوبہ ہےاس کی تقسیم کا کوئی بھی منصوبہ پاکستان کو عدم استحکام سے سے دوچار کرنے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ پنجاب، کے پی کے، بلوچستان صوبوں کے عوام اپنے بارے میں فیصلہ کریں گے اور سندھ اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا کلی اختیار رکھتا ہے، سندھ کے چھ کروڑ عوام اپنی سرزمین دریا سندھ کی وحدت قدرتی وسائل کو اپنے قومی وجود کا حصہ سمجھتے ہیں، یہ ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، اس پر کسی قسم کی سودے بازی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کسی عالمی مذموم ایجنڈے کے تحت ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی نئے صوبوں اور سندھ کی وحدت کے حوالے سے اپنی پالیسی واضع کرنی چاہیے، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ محسن نقوی دیکھیں کہ 10 سال پہلے ان کی کیا حیثیت تھی، پرانی چپلیں پہن کر وہ ایک کمرے میں دبکے رہتے تھے اب وہ کسی جرنیل کی خوشامد کرکے وفاقی وزیر بن گئے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلے وہی کریں گے، محسن نقوی پاکستان خصوصا سندھ کے کسی علاقے میں عوام کے درمیان نکل کر دیکھیں کہ ان کی کیا حیثیت ہے وہ اپن پاؤں پر چل کر واپس جانے کے قابل نہ رہیں گے، ایم کیو ایم کیو کے وفاقی وزرا مصطفے کمال اور خالد مقبول صدیقی نے غیر ذمہ داری کی انتہا کر دی ہے، مصطفے کمال سٹی ناظم کے طور پر اپنا اقتدار بچانے کے لئے اپنی فیملی کے ساتھ الطاف حسین کے سامنے کس طرح پیش ہوتے تھے ان کے کردار کا اچھی طرح علم ہے اور پھر وہ الطاف حسین کے خلاف غلیظ  گالم گلوچ کرتے رہے ہم نے الطاف حسین کے خلاف کبھی ایسی زبان استعمال نہیں کی انہوں نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی صوبے کے قیام کے لئے مہاجروں کو اسلحہ اٹھانے پر اکسا رہے ہیں، الطاف حسین نے بھی ٹی وی فریج بیچو اسلحہ خریدو کا نعرہ لگایا تھا، مہاجر نوجوانوں کی تین نسلوں کو دہشت گرد بنا دیا اور جماعت اسلامی، ایم کیو ایم حقیقی، سنی تحریک کے کارکنوں کا قتل عام کرایا تھا، انہوں نے کہا کہ مصطفے کمال اور خالد مقبول صدیقی سیاست کرنے کے بجائے شیطانی سازش سے  قتل عام کرانا چاہتے ہیں لیکن وہ کوئی پنگا لینے سے باز آ جائیں ایسا نہ ہو مصطفے کمال کو دوبئی بھاگنا پڑے اور ان کا حال بھی الطاف حسین جیسا ہو، انہوں نے کہا خالد مقبول صدیقی یاد رکھیں کہ ہم اپنے عوام ہتھیار اٹھانے کا نہیں کہہ رہے لیکن مسلح ٓدھشت گردی کرنے والوں کے تھپڑ مار کر ان سے ہتھیار چھیننے کی جرات اور صلاحیت رکھتے ہیں اور ماضی میں یہ کر کے بھی دکھایا ہے اور اب بھی کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے پی کے میں کسی حکومت کا وجود نہیں سابق وزیر اعلی گنڈا پور اور مولانا فضل الرحمن  کے مطابق وہ اپنے گھروں کو نہیں جا سکتے طالبان اور دیگر دہشت گردوں کو بھتے دیتے ہیں سہیل آفریدی کو بھی اپنے تحفظ کے لئے بھتہ دینا پڑتا ہے بلوچستان میں بھی ائے روز فورسز پر دہشت گرد حملے ہوتے ہیں 9 مئی کے دہشت گردی واقعے کے بعد پنجاب میں فوج کو مشکلاتط سامنا ہے ان حالات میں کون سی عقلمندی ہے کہ سندھ میں میں لسانی بنیاد پر  اشتعال انگیزی کر کے حالات خراب کئے جائیں، ایک سوال پر ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی وحدت وسالمت کے لئے اسمبلی میں سندھ  کی تقسیم کے خلاف قرداد منظور کرا کے اچھا قدم اٹھایا ہے لیکن سندھ قومی کانفرنس میں پی پی کو بلایا جائے یا نہیں ہم نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر کو حیدرآباد میں سندھ کی وحدت کے تحفظ کے لئے ہونے والی قومی کانفرنس اور 14 نومبر کو کراچی میں ہونے والہ جلسہ عام تاریخی پروگرام ہوں گے جن میں سیاسی سماجی انٹلیکچوئل وکلا سب کی بھرپور نمائندگی ہو گی اور لاکھوں لوگ شرکت کریں گے، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ 20 ستمبر سے شروع ہونے والی سندھ میری ماں مہم کا آغاز ٹھٹھہ سے ہو گا اور پھر سندھ کے تمام اضلاع میں جلسے ریلیاں اجتماعات ہوں گے، پوسٹر چاکنگ اسٹیکرز لگا کر معاشرے کے ہر طبقے خواتین تک سندھ کی وحدت کا پیغام پہنچایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی قومی کانفرنس میں سندھ کی وحدت دریا قدرتی وسائل اور قومی حقوق کے تحفظ کے لئے مشترکہ قومی موقف اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی

مزید خبریں

Back to top button