پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا محکمہ زراعت پر اظہار برہمی، سبسڈی اور بیج خریداری میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی-I کے اجلاس میں محکمہ زراعت اور اس کے ذیلی اداروں کے آڈٹ پیراز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں مالی بے ضابطگیوں کے متعدد انکشافات سامنے آئے۔
اجلاس کی صدارت چیئرپرسن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی-I چوہدری افتخار حسین چھچھر نے کی۔ آڈٹ رپورٹ میں سبسڈی کی غیر استعمال شدہ رقم کے استعمال، منافع کی رقم تاخیر سے جمع کروانے، ٹھیکیداروں سے ٹیکسز کی کم کٹوتی اور بغیر اوپن ٹینڈرز پرنٹڈ میٹریل کی خریداری جیسے معاملات کی نشاندہی کی گئی۔
چیئرمین کمیٹی نے بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوتاہیاں کسی صورت قابل قبول نہیں، متعلقہ معاملات کی انکوائری کر کے 15 روز میں رپورٹ پیش کی جائے۔
افتخار حسین چھچھر نے سوال اٹھایا کہ "کیا محکمہ زراعت کو فنانس ڈیپارٹمنٹ کو فنڈز واپس کرنا پسند نہیں؟” انہوں نے کہا کہ مالی معاملات میں شفافیت یقینی بنانا ہوگی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پنجاب سیڈ کارپوریشن نے مکئی کی فی ایکڑ پیداوار صرف تین من حاصل کی، جبکہ مختلف فصلوں کی کم پیداوار سے قومی خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
کمیٹی نے 29 ملین روپے مالیت کا بیج مہنگے داموں خرید کر کم قیمت پر فروخت کرنے کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سیکرٹری زراعت کو 90 روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
اجلاس میں کاٹن لنٹ کی نیلامی نہ ہونے سے قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے محکمہ زراعت کو گورننس اور احتساب کا نظام مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔
چیئرمین کمیٹی نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ پیش رفت رپورٹس بروقت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔ اجلاس میں پنجاب اسمبلی اور دیگر سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔



