بدین: سیرانی شہر میں بدامنی کے خلاف شہریوں اور تاجروں کا احتجاجی مظاہرہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن)بدین کی ساحلی پٹی کے شہر سیرانی شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف شہر کے تاجروں اور شہریوں نے بخاری چوک سے ایک ریلی نکالی اور پریس کلب سیرانی کے سامنے سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے دو گھنٹے تک بھگڑو میمن روڈ بند رکھا اور انتظامیہ و پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کی مظاہرین میں سلیمان ملاح، مولوی عثمان بھان، میر محمد ملواینی، صالح رند، مجید جونیجو سمیت دیگر شامل تھے۔ مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بدامنی بڑھ گئی ہے، اب ہماری عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ نمازیوں کی گاڑیاں چوری ہو جاتی ہیں، مسجدوں سے بیٹریاں غائب ہو جاتی ہیں لیکن پولیس کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہر جمعے کو لگنے والی مال منڈی میں کئی لوگوں سے ان کے مال کے پیسے چھین لیے جاتے ہیں۔ مزید کہا کہ سیراڻي شہر اور اس کے گرد و نواح کے دیہاتوں میں منشیات کا بہت بڑا مسئلہ ہے ۔ ٹھرو، چرس، سفینا اور آئس عام طور پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے اور بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہےمظاہرین نے بتایا کہ انہوں نے سیراڻي کے انچارج سے بھی بات کی تھی، جنہوں نے کہا کہ عملے کی کمی کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیںظ ماہرین نے اعلیٰ حکام، ایس ایس پی بدین اور آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا کہ مسجد کے سامنے سے چوری ہونے والی موٹر سائیکل واپس دلائی جائے اور شہر میں بڑھتی ہوئی چوریوں اور بدامنی پر قابو پایا جائے اس حوالے سے جب سیراڻي انچارج انور حسین خاصخیلی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم چوروں کی تلاش میں مصروف ہیں اور جلد ہی نتیجہ سامنے آئے گا۔



