🍟پاکستان میں آلو کی بڑی سائنسی کامیابی،فرنچ فرائز اورچپس کیلئے4نئی بہترین اقسام تیار

22 فیصد سے زائد ڈرائی میٹر! پاکستانی سائنسدانوں نے کرسپی فرائز کا راز ڈھونڈ لیا

ساہیوال (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان میں آلو کی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (PRI) ساہیوال نے فرانس فرائز اور آلو کے چپس کی تیاری کے لیے آلو کی چار نئی اعلیٰ معیار کی ورائٹیز تیار کرلی ہیں، جن میں ڈرائی میٹر (Dry Matter) کا تناسب 22 فیصد سے زائد بتایا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق آلو میں ڈرائی میٹر کی مقدار فرانس فرائز اور چپس کے معیار کا ایک اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ ڈرائی میٹر والے آلو فرائی ہونے کے بعد نسبتاً زیادہ خستہ، کم چکنائی جذب کرنے والے اور بہتر ساخت کے حامل ہوتے ہیں، جس کے باعث فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں ایسے آلو کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔

🍟 پاکستانی فرائز کیلئے نئی امید

پٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی چاروں نئی ورائٹیز کو خاص طور پر فرانس فرائز اور چپس کی تیاری کے لیے موزوں قرار دیا جا رہا ہے۔ ان ورائٹیز میں 22 فیصد سے زائد ڈرائی میٹر کا تناسب انہیں عام آلو کے مقابلے میں فوڈ پروسیسنگ کے لیے زیادہ موزوں بناتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آلو کی پیداوار بڑے پیمانے پر ہوتی ہے، تاہم اعلیٰ معیار کے پروسیسنگ گریڈ آلو کی دستیابی فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک اہم ضرورت رہی ہے۔ نئی ورائٹیز اس ضرورت کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

🔬 ڈرائی میٹر آخر ہے کیا؟

آلو میں Dry Matter سے مراد بنیادی طور پر وہ حصہ ہے جو آلو میں پانی کے علاوہ باقی رہ جاتا ہے۔ اس میں نشاستہ سمیت دیگر ٹھوس اجزا شامل ہوتے ہیں۔

فرائز کی تیاری میں ایسے آلو زیادہ پسند کیے جاتے ہیں جن میں ڈرائی میٹر مناسب مقدار میں ہو، کیونکہ ان سے تیار ہونے والے فرائز باہر سے کرسپی جبکہ اندر سے بہتر ساخت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی صورت میں فرائز کو مطلوبہ خستگی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

پاک فوڈ انڈسٹری کیلئے بڑا موقع

پاکستان میں فاسٹ فوڈ، فروزن فوڈ اور آلو کی پروسیسنگ کی صنعت میں مسلسل وسعت کے باعث فرانس فرائز اور چپس کے لیے مقامی طور پر موزوں آلو کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں مقامی تحقیق کے ذریعے نئی ورائٹیز کی تیاری درآمدی پروسیسنگ گریڈ آلو پر انحصار کم کرنے اور ملکی فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اگر یہ نئی اقسام بڑے پیمانے پر کاشت کے لیے کامیابی سے متعارف کرائی جاتی ہیں تو کسانوں کو بھی ایسی فصل پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے جس کی مانگ صرف تازہ سبزی کے طور پر نہیں بلکہ فرائز، چپس اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی صنعت میں بھی موجود ہو۔

🚜 کسانوں کیلئے بھی خوشخبری

ماہرین کے مطابق کسی بھی نئی ورائٹی کی تجارتی کامیابی صرف اس کے معیار پر نہیں بلکہ اس کی پیداواری صلاحیت، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، مختلف علاقوں میں موافقت اور کسان کے لیے منافع بخش ہونے سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔

اسی لیے PRI کی تیار کردہ ان نئی ورائٹیز کی مزید آزمائش اور بڑے پیمانے پر کاشت کے نتائج مستقبل میں یہ طے کریں گے کہ یہ اقسام پاکستان کی آلو کی پروسیسنگ انڈسٹری میں کس حد تک انقلاب برپا کرسکتی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button