بدین پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے 250 سے زائد طلبہ کا انتظامیہ پر فیسیں ہڑپنے اور ریکارڈ کراچی بورڈ میں جمع نہ کرانے کا الزام

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/ جانو ڈاٹ /پی کے)گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے 250 سے زائد طلبہ کا انتظامیہ پر فیسیں ہڑپ کرنے اور امتحانی ریکارڈ ٹیکنیکل بورڈ کراچی میں جمع نہ کرانے کا الزام تفصیل کے مطابق گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ بدین کے 250 سے زائد طلبہ نے انسٹیٹیوٹ انتظامیہ پر فیسیں ہڑپ کرنے، امتحانی ریکارڈ سندھ ٹیکنیکل بورڈ کراچی میں جمع نہ کرانے اور کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE) کے دوران سول، الیکٹریکل، مکینیکل اور پیٹرولیم ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ان کا امتحانی ریکارڈ مکمل نہ ہونے کے باعث ان کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں غلام مرتضیٰ سومرو، محبوب انصاری، جمال لاکھو اور دیگر طلبہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متعدد طلبہ نے 2019ء میں داخلہ لیا، جبکہ 2019ء اور 2020ء کے دوران ان کے امتحانات بھی لیے گئے۔ طلبہ کے مطابق 2021ء میں امتحانی فیسیں ٹیکنیکل بورڈ میں جمع کرانے کے لیے جاتے وقت انہیں روک دیا گیا اور کلرکوں کی جانب سے فیسیں کالج میں جمع کرانے کا کہا گیا، جس کے بعد امتحانات قریب آنے پر انہیں جعلی امتحانی سلپس فراہم کی گئیں متاثرہ طلبہ کا مزید کہنا تھا کہ والدین مزدوری کرکے، کھیتوں میں محنت کرکے اور قرض لے کر فیسیں جمع کراتے رہے، لیکن اس کے باوجود ٹیکنیکل بورڈ کراچی کے پاس ان کے نام اور امتحانی ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث انہیں مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے جا سکے طلبہ کا دعویٰ ہے کہ 2025ء تک بھی متعدد طلبہ کو اسی صورتحال کا سامنا رہا، جبکہ رواں سال کے حوالے سے بھی انہیں خدشات لاحق ہیں۔ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ معاملے کی نشاندہی ہونے کے باوجود کالج انتظامیہ کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ طلبہ کے مطابق کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث ایک کلرک کو ابتدائی طور پر عہدے سے ہٹانے کے بعد دوبارہ اہم عہدے پر تعینات کر دیا گیا طلبہ کا کہنا تھا کہ کالج کے پرنسپل سیف الدین عباسی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ ’’فیسیں کلرک کھا گئے ہیں، وہ اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ طلبہ کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کا موقف اختیار کیے جانے سے انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے بتایا کہ تقریباً دو ماہ قبل انہوں نے صوبائی وزیر برائے بورڈز و یونیورسٹیز محمد اسماعیل راہو سے ان کے دفتر میں ملاقات کرکے تمام معاملہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق صوبائی وزیر نے مسئلہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم تاحال کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ بدین کے تمام امتحانی اور مالی ریکارڈ کی اعلیٰ سطحی، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سندھ ٹیکنیکل بورڈ کراچی کے پاس طلبہ کا اصل ریکارڈ فوری طور پر بحال کرکے انہیں اصل مارک شیٹس اور سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں، جبکہ فیسیں جمع نہ کرانے میں ملوث عملے کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے طلبہ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ان کا مسئلہ فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو انتظامیہ کے خلاف ضلعی سطح پر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button