زمین کے نیچے 2212 میٹر گہری دنیا، جارجیا کی غار نے سب کو حیران کردیا

جارجیا(جانوڈاٹ پی کے)ویسے تو دنیا بھر میں غاریں موجود ہیں مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کی سب سے گہرا غار کہاں ہے؟

ایک بلند و بالا پہاڑی سلسلے کے نیچے غاروں کا ایک وسیع اور پیچیدہ نظام موجود ہے، جو پہاڑیوں کے اندر بل کھاتا ہوا زمین کی سطح سے 2 ہزار میٹر سے بھی زیادہ گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔

غاروں کایہ نظام دنیا کا سب سے گہرا سمجھا جاتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے ماہرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہاں موجود چونے کے پتھر سے بنے غاروں کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ برطانیہ کے مشہور پہاڑ بین نیوس کو بھی اگر الٹا کرکے ان میں رکھ دیا جائے تو اس کے باوجود کافی جگہ بچ جائے گی۔

ویریوو کینا نامی غار، مغربی قفقاز کے گاگرا پہاڑی سلسلے کے نیچے واقع ہے۔

یہ علاقہ جارجیا کے متنازع خطے ابخازیا میں واقع ہے۔

ویریوو کینا دنیا کے ان دو غاروں میں شامل ہے، جو اکثر زمین کے سب سے گہرے غار کے اعزاز کے لیے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں۔

اس کی غیر معمولی گہرائی اور زیرِ زمین پھیلے وسیع غاروں کا نظام اسے دنیا بھر کی غاروں کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماہرین کے لیے خاص اہمیت کا حامل بناتا ہے۔

ویریو کینا اور اسی خطے میں واقع دوسری غار کروبیرا کے درمیان سب سے گہری غار کے ریکارڈ کے لیے مقابلہ جاری ہے۔

یہ دونوں ہی 2 ہزار میٹرز سے زائد گہری غاریں ہیں اور سائنسدانوں کی جانب سے اکثر ان کی پیمائش کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

یہ دونوں غاریں گہرائی میں تاریک اور ناقابل رہائش ہیں اور ان کا درجہ حرارت بمشکل ہی 3 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتا ہے۔

آپ جتنا اس کی گہرائی میں جائیں گے، اس میں پائے جانے والے جانور تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

ان غاروں میں پائے جانے والے اکثر جانداروں کی آنکھیں نہیں ہوتیں یا لمبے انٹینا اور بال موجود ہوتے ہیں تاکہ وہ ارتعاش کو محسوس کرسکیں جبکہ مکمل تاریکی میں غار کے نظام میں حرکت کرسکیں۔

جنوری 2026 میں اس ویریو کینا کو دنیا کے گہرے ترین غار کا اعزاز دیا گیا تھا جس کی گہرائی 2212 میٹر ریکارڈ ہوئی جبکہ کروبیرا کی گہرائی 2199 میٹر ہے۔

ویریو کینا کو 1968 میں دریافت کیا گیا تھا جب اسے ایس 115 کا نام دیا گیا اور 1986 میں غاروں کی کھوج کرنے والے الیگزینڈر ویرو کین کے نام پر اس کا نام ویرو کینا رکھا گیا۔

یہ دونوں غاریں ایسے خطے میں واقع ہیں جہاں چونے کے پتھر میں پانی کے بہاؤ سے غاریں بن گئیں جو کہ کروڑوں سال پرانی ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق اس خطے میں بہت زیادہ گہری غاروں کی موجودگی کی وجہ وہاں کی چٹانیں بننے کا عمل ہے۔

وہاں چونے کے پتھر ایسے انداز سے موجود ہیں کہ پانی کے لیے سیدھا نیچے جانا سب سے آسان ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button