خام پتھر نہیں، تیار جواہرات برآمد کرے گا پاکستان؟ شہباز شریف کا برانڈ پاکستان پر کام تیز کرنے کا حکم

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے قیمتی پتھروں اور جواہرات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے خطے کے دیگر ممالک کی طرز پر برانڈ پاکستان کے قیام پر کام کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے جاری اقدامات میں سست روی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مقررہ مدت کے اندر جامع لائحہ عمل تیار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں قیمتی پتھروں اور جواہرات کے شعبے کی ترقی اور ان کی برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کا جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شعبے کی موجودہ صورتحال، پائلٹ منصوبوں پر پیش رفت، قیمتی پتھروں کی تلاش، کان کنی، تراش خراش اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بہتر بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے پائلٹ پراجیکٹ کی تیاری میں سست روی اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات میں تعطل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کے لیے واضح اہداف اور مدت مقرر کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتی پتھروں اور جواہرات کا شعبہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی سے لے کر ان کی تراش خراش، معیار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات تک ایک مکمل نظام تشکیل دیا جائے تاکہ پاکستان صرف خام پتھر برآمد کرنے کے بجائے تیار شدہ اور زیادہ مالیت کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے، تاہم قیمتی پتھروں کی غیر معیاری کان کنی اور اسمگلنگ کے باعث ملک کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں اور معدنیات کے وسیع ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے شعبے میں مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کا لائحہ عمل جلد مکمل کرنے، پائلٹ منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور قیمتی پتھروں کی ماڈل مائنز کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ حسین آباد، سکردو میں سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل کی جاچکی ہے، جبکہ منصوبے کے لیے فنڈز بھی دستیاب ہیں اور تعمیراتی کام جلد شروع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی ایسے مراکز کے قیام کے لیے زمین کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔ اسلام آباد میں مستقل مرکز کی تعمیر مکمل ہونے تک متبادل جگہ پر اسے فعال کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ قیمتی پتھروں کے ممکنہ ذخائر کی نشاندہی کے لیے جیولوجیکل میپنگ مکمل کرلی گئی ہے، جس کے دوران گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبرپختونخوا میں آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان علاقوں میں قیمتی پتھروں کی دریافت اور ذخائر کی مزید تحقیق کے لیے کام کیا جائے گا۔

حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں، تاکہ برآمدی معاملات میں سہولت فراہم کی جاسکے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے لیے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام اور شعبے کی مجموعی ترقی سے متعلق جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے اس شعبے میں کان کنی، جدید تراش خراش، تربیت اور عالمی برانڈنگ کو فروغ دینے کے اقدامات کا مقصد پاکستانی قیمتی پتھروں کی قدر بڑھانا اور ملکی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button