پنکی اتنی بڑی سپلائر نہیں، میڈیا کی وجہ سے ملی زیادہ ہائپ، قائمہ کمیٹی میں ایڈیشنل آئی جی کی اہم بریفنگ

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)انمول عرف ’’پنکی‘‘ کے منشیات کیس نے ایک جانب کراچی میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں تو دوسری جانب اس کیس کو ملنے والی غیر معمولی میڈیا کوریج بھی زیر بحث آگئی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پنکی اتنی بڑی سپلائر نہیں ہے جتنی اسے میڈیا میں ہائپ ملی، تاہم اس کے خلاف منشیات سے متعلق متعدد مقدمات اور مالی و رابطہ نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات، مبینہ منشیات نیٹ ورک، مالی معاملات اور پولیس تفتیش کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق پنکی کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر 26 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔ ان میں کراچی میں 2021 سے 2026 کے دوران درج کیے گئے 17 مقدمات کے علاوہ پنجاب میں پانچ اور دیگر چار مقدمات شامل ہیں۔
16 بینک اکاؤنٹس اور سینکڑوں رابطوں کی تحقیقات
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق تفتیش کے دوران پنکی سے منسلک 16 مختلف بینک اکاؤنٹس کا بھی سراغ ملا ہے جن میں رقوم منتقل ہونے اور بعد ازاں مبینہ طور پر سپلائرز کو ادائیگی کیے جانے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ پولیس نے مالیاتی نیٹ ورک کی چھان بین کے لیے مزید اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق پنکی کے موبائل فون سے تقریباً 868 رابطہ نمبرز بھی ملے ہیں، جن کا تعلق کراچی کے علاوہ لاہور، اسلام آباد، پنجاب کے دیگر شہروں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے بتایا گیا ہے۔ ان نمبرز کی فرانزک اور تفتیشی جانچ جاری ہے تاکہ مبینہ منشیات نیٹ ورک میں شامل افراد کا تعین کیا جاسکے۔
2019 میں پہلا مقدمہ، پھر بھی کارروائی کیوں نہ ہوسکی؟
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے حکام نے بتایا کہ پنکی کے خلاف 2019 میں پہلا مقدمہ درج ہوا تھا، تاہم مبینہ طور پر پتہ تبدیل ہونے کی وجہ سے اس کیس میں مؤثر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اس پر کمیٹی کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر 2019 میں مقدمہ درج ہوچکا تھا تو اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزمہ کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی۔
ایڈیشنل آئی جی کے مطابق 2019 کے مقدمے کے بعد پنکی کا پاسپورٹ بلاک کیا گیا تھا جبکہ فروری 2021 میں کسی دوسرے نام سے شناختی کارڈ بنانے کی کوشش کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اس حوالے سے نادرا کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے۔
گرفتاری کے بعد عدالت میں بغیر ہتھکڑی پیشی پر بھی سوالات
پنکی کیس اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب اسے کراچی کی سٹی کورٹ میں مبینہ طور پر بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ واقعے پر سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔
رپورٹس کے مطابق ایس ایچ او، تفتیشی افسر سمیت تین اہلکاروں کو غفلت برتنے پر معطل کیا گیا اور معاملے کی انکوائری ڈی آئی جی کے سپرد کی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے واضح کیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
میڈیا کوریج سے ’’پنکی برانڈ‘‘ کو غیر معمولی شہرت ملی؟
پنکی کیس میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر ملنے والی غیر معمولی توجہ نے اسے ایک معروف نام بنا دیا۔ اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بھی کہا تھا کہ ’’پنکی کا برانڈ اس کے لیے پھندا بنے گا‘‘ اور اس کے نیٹ ورک سے منسلک افراد کی لوکیشنز اور رابطوں کی نگرانی کی جارہی ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر خواتین، رائیڈرز اور دیگر افراد کے ذریعے منشیات کی ترسیل کا نظام سامنے آیا۔ حکام نے یہ بھی بتایا تھا کہ تحقیقات کو صرف کراچی تک محدود نہیں رکھا گیا اور دیگر شہروں میں موجود مبینہ سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع، منی لانڈرنگ کی بھی چھان بین
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنکی کے خلاف جاری تحقیقات میں صرف منشیات کے مقدمات ہی نہیں بلکہ اس کے مالیاتی اور رابطہ نیٹ ورک کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کے پہلو سے بھی تحقیقات کیے جانے کا امکان ہے۔
پولیس حکام کے مطابق کیس میں بینک اکاؤنٹس، موبائل فون سے حاصل ہونے والے نمبرز، مبینہ ڈیلرز، کیریئرز اور دیگر رابطوں کا جائزہ لیا جارہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ منشیات کی مبینہ سپلائی میں اصل نیٹ ورک کس حد تک پھیلا ہوا تھا۔یوں قائمہ کمیٹی کے سامنے دی گئی بریفنگ نے پنکی کیس کے حوالے سے ایک نیا پہلو اجاگر کردیا ہے: ایک طرف اس کے خلاف متعدد مقدمات اور مبینہ مالی و منشیاتی روابط کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ دوسری طرف پولیس کے اعلیٰ افسر کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ میڈیا کوریج کے نتیجے میں پنکی کو اس کی اصل حیثیت سے کہیں زیادہ بڑا منشیات سپلائر بنا کر پیش کیا گیا۔ حتمی صورتحال کا تعین جاری تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔



