ٹنڈوباگو:سید سمن سرکار کے عرس پر جیب کتروں کا گروہ 7 لاکھ روپے کے عوض ٹھیکے پرلانے کا الزم،30گرفتارافرادسے تحقیقات شروع

ٹنڈوباگو (جانو ڈاٹ پی کے) زیریں سندھ کے معروف صوفی بزرگ سید سمن سرکار کے سالانہ عرس و میلے میں جیب کتروں کی مبینہ منظم لوٹ مار کا معاملہ سنگین اسکینڈل کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع نے مبینہ انکشاف کیا ہے کہ میلے میں جیب کتروں کو مبینہ طور پر سات لاکھ روپے کے عوض ٹھیکے پر لایا گیا تھا، جنہوں نے میلے کے دوران زائرین اور عقیدت مندوں کی جیبوں سے تقریباً 12 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فون اور ہزاروں روپے نقدی چوری کرلی۔ ذرائع کے مطابق جیب کتروں کے مبینہ ٹھیکیدار نے سندھ کے مختلف اضلاع سے جیب کتروں کے گروہوں کو میلے میں جمع کیا تھا، جہاں ہزاروں زائرین کی آمد کے باعث مبینہ طور پر چوری کی وارداتیں جاری رہیں۔ میلے میں زائرین کی قیمتی اشیا اور موبائل فون چوری ہونے کی شکایات اور سوشل میڈیا سمیت الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا میں خبروں کے وائرل ہونے کے بعد پولیس پر دباؤ بڑھ گیا، جس کے بعد پنگریو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے اندر مبینہ جیب کتروں کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 20 چوری شدہ موبائل فون برآمد کرلیے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ڈی ایس پی ٹنڈوباگو محمود بھوت کی سربراہی میں ایس ایچ او پنگریو انسپکٹر مولچند میگھواڑ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائیاں کیں، گرفتار افراد کے خلاف پنگریو تھانے میں چوری کے مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ تاہم میلے میں مبینہ سات لاکھ روپے کے ٹھیکے، 12 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فونز کی چوری اور ہزاروں روپے نقدی غائب ہونے کے الزامات نے کئی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں کہ اتنے بڑے میلے میں جیب کتروں کے گروہوں کو منظم انداز میں سرگرم ہونے کا موقع کیسے ملا زائرین کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظامات کہاں تھے اور مبینہ ٹھیکے کے پیچھے کون لوگ تھے سمن سرکار کے میلے میں جیب کتروں کی مبینہ لوٹ مار کے اس معاملے نے ضلع بدین کی پولیس کی کارکردگی اور میلے کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جبکہ مبینہ ٹھیکے کے الزامات کی شفاف تحقیقات اور تمام حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔



