ایران جنگ نے امریکا کے اسلحہ ذخائر ہلا دیے،پینٹاگون رپورٹ میں33.4ارب ڈالر کے اخراجات اور گولہ بارود کی شدید کمی کاانکشاف

واشنگٹن(جانو ڈاٹ پی کے) امریکی محکمہ دفاع کی نئی رپورٹ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی گولہ بارود اور اسٹریٹجک ذخائر میں نمایاں کمی کا انکشاف کردیا، جبکہ ایران جنگ پر واشنگٹن کے بھاری اخراجات بھی سامنے آگئے۔

پینٹاگون کے آفس آف انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امریکی فوج کے گولہ بارود کے ذخائر پر نمایاں دباؤ پڑا اور اسٹریٹجک انوینٹری میں کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 28 فروری سے جون کے اختتام تک ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کی مجموعی لاگت تقریباً 33.4 ارب ڈالر رہی، جس میں سب سے بڑا حصہ جنگی سازوسامان اور گولہ بارود پر آنے والے اخراجات کا ہے، جو تقریباً 22.3 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران گولہ بارود کی بڑے پیمانے پر کھپت نے امریکی اسٹریٹجک ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا۔ رپورٹ میں دفاعی صنعت کے اندر ایسی ساختی رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو ضرورت کے مطابق گولہ بارود کے ذخائر کو تیزی سے دوبارہ بھرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔

رپورٹ میں سامنے آنے والی تفصیلات ایسے وقت میں اہم قرار دی جارہی ہیں جب امریکی انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران جنگی سازوسامان کے ممکنہ بحران اور ذخائر میں کمی سے متعلق خدشات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

نئی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ نے نہ صرف امریکی دفاعی اخراجات میں بڑا اضافہ کیا بلکہ گولہ بارود کی دستیابی اور دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت سے متعلق اہم چیلنجز بھی اجاگر کردیئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button