3400سال پرانا راز کھل گیا، دنیا کے قدیم ترین امن معاہدے کا نیا ٹکڑادریافت

انقرہ (جانو ڈاٹ پی کے) ترکی میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تقریباً 3 ہزار 400 سال پرانے ایک تاریخی امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت کرلیا، جس نے قدیم دنیا میں جنگ، امن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین کے حیران کن پہلو سامنے لا دیے۔
ماہرین کے مطابق مٹی کی یہ تختی قدیم مصر کے فرعون رامسیس دوم اور حتی سلطنت کے بادشاہ ہتوسیلی سوم کے درمیان 13ویں صدی قبل مسیح میں طے پانے والے مشہور معاہدۂ قادش کا حصہ ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین معلوم امن معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ تاریخی ٹکڑا حتی سلطنت کے سابق دارالحکومت ہتوشا سے دریافت ہوا، جو موجودہ وسطی ترکی میں واقع ہے۔ محققین نے تقریباً ایک سال تک اس ٹکڑے کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد اس کی معاہدے میں اصل حیثیت کی تصدیق کی۔
دستیاب متن میں ایسے افراد سے متعلق قواعد بھی درج ہیں جو مصر سے حتی سلطنت کی حدود میں فرار ہوئے یا حتی علاقے سے مصر منتقل ہوگئے تھے۔ معاہدے کے تحت ایسے افراد کو واپس کیا جانا تھا، تاہم ان کے ساتھ سخت سلوک اور بعض سزاؤں سے تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی تھی۔
معاہدے میں واضح کیا گیا تھا کہ واپس کیے جانے والے افراد کی آنکھیں، کان یا جسم کے دیگر اعضا مسخ نہیں کیے جائیں گے، جبکہ ان کے گھروں اور خاندانوں کو تباہ کرنے سے بھی روکا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ قدیم دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان کئی برس جاری رہنے والی جنگ کے بعد طے پایا تھا۔ معاہدے کے دیگر حصے ایک صدی سے زیادہ عرصہ قبل دریافت ہوچکے ہیں، تاہم نئے ٹکڑے نے قدیم دور کے سفارتی نظام اور انسانی تحفظ سے متعلق اہم معلومات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔



