ایران بحران پر بڑا سفارتی دھماکا، روس اور ایران نے فوجی حل مسترد کردیا

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) ایران کے گرد جاری بحران پر روس اور ایران کے درمیان اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے موجودہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحران کے حل کے لیے فوجی راستے کا کوئی متبادل نہیں۔دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے موقع پر نیویارک میں ہوئی، جس میں ایران سے متعلق تازہ صورتحال سمیت خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کے گرد پیدا ہونے والے بحران کا حل سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے، جبکہ ماسکو نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اختلافات کو سیاسی و سفارتی طریقوں سے حل کرنے کی حمایت کا اعادہ کیا۔روسی مؤقف کے مطابق موجودہ بحران امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، جنہیں ماسکو نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ یہ مؤقف روسی حکومت کا اپنا بیان ہے۔ملاقات میں ایران کے حوالے سے جاری سفارتی کوششوں اور خطے کی مجموعی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے نیویارک میں سفارتی رابطے بھی جاری ہیں اور تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مشروط تجاویز پیش کی ہیں۔لاوروف اور عراقچی کی ملاقات سے ایک مرتبہ پھر یہ واضح ہوا کہ ماسکو ایران کے بحران کے حل کے لیے مذاکراتی اور سفارتی راستے کی حمایت کر رہا ہے۔



