شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد بھی بڑا بریک تھرو نہ آیا، ٹرمپ کی سفارت کاری پر سوالات

ٹرمپ کی سفارتی سرگرمیاں، عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ کی حدود نمایاں ہونے لگیں

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کے ذریعے عالمی سطح پر امریکی کردار کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، تاہم رائٹرز کے مطابق ان سفارتی سرگرمیوں کے باوجود انہیں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ، اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے، اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مقابلے نے امریکی انتظامیہ کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نے رپورٹ کیا کہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے بحران اور یوکرین جنگ سمیت مختلف معاملات پر واشنگٹن کے مؤقف سے اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے امریکی خارجہ پالیسی کے اثرات اور حدود پر بحث تیز ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں اسے ’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کرنے کی دھمکی دی، جبکہ وینزویلا کے حوالے سے امریکی پالیسی اور اوپیک کے رکن ملک پر دباؤ کا بھی دفاع کیا۔

دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور دیگر اہم عالمی معاملات زیر بحث آئے۔ رائٹرز کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان بعض معاملات پر مشترکہ فہم کی بات سامنے آئی، تاہم بڑے پالیسی بریک تھرو کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔

رائٹرز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا میں ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات کو بھی بڑھایا ہے۔ ستمبر میں ہونے والے رائٹرز/اِپسوس سروے میں ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 32 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ان کی سیاسی زندگی کی کم ترین سطح تھی۔ سروے میں 34 فیصد افراد نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کی۔

چین کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں بھی واشنگٹن کو مصنوعی ذہانت، تجارت، تائیوان اور ٹیکنالوجی برآمدات جیسے معاملات پر اختلافات کا سامنا ہے۔ شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران امریکا اور چین کے درمیان ذمہ دارانہ تعلقات اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو انسانی نگرانی میں رکھنے پر زور دیا۔

مزید خبریں

Back to top button