سعودی توانائی تنصیبات پر حملے،اقوام متحدہ نے حوثیوں کو خبردار کردیا

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے توانائی اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حوثیوں سے فوری طور پر فوجی کشیدگی روکنے اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کردیا۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو لاحق خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور سمندری آمدورفت کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق سعودی عرب پر حالیہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری زخمی ہوئے ہیں۔

کونسل نے یمن میں بگڑتی انسانی صورتحال پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق ستمبر کے آغاز سے اب تک یمن میں کم از کم 1 لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ سلامتی کونسل نے خبردار کیا کہ مزید فوجی کشیدگی انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے اور متاثرہ علاقوں تک محفوظ، تیز اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل نے حوثیوں سے زیرحراست افراد، جن میں اقوام متحدہ کے اہلکار بھی شامل ہیں، کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی حراست میں 73 اقوام متحدہ کے اہلکار اور غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور سفارتی مشنز سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

کونسل ارکان نے یمنی حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے حوثیوں تک ہتھیار، فوجی تربیت، تکنیکی معاونت اور مالی وسائل کی رسائی روکنے پر بھی زور دیا اور متعلقہ ریاستوں کو ہتھیاروں کی پابندی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔

سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت اس کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا۔ ساتھ ہی یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن تشدد، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

مزید خبریں

Back to top button