پاکستان، سعودی عرب، ترکی دفاعی معاہدہ،اردوان نے اہم قیاس آرائیاں مسترد کردیں

انقرہ (جانو ڈاٹ پی کے) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ایران، اسرائیل یا کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد خطے میں سلامتی، دفاعی صلاحیت اور استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

نیوز ویک کو دیے گئے انٹرویو میں رجب طیب اردوان نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا کہ مکہ دفاعی معاہدے کو ایران یا اسرائیل کے خلاف کسی اتحاد کے طور پر دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ خطے کو زیادہ محفوظ، پرامن اور خوشحال بنانے کی مشترکہ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔ترک صدر نے کہا کہ ترکی طویل عرصے سے اس مؤقف کا حامی ہے کہ خطے کے ممالک اپنے مسائل کے حل اور علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خود زیادہ مؤثر انداز میں ادا کریں۔اردوان کے مطابق معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط، دفاعی بازداریت کو مؤثر اور خطے میں دیرپا استحکام کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ بھی مکہ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دے چکی ہے اور کہہ چکی ہے کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ترک صدر نے بتایا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کے حق پر مبنی ہے اور اس میں یہ اصول شامل ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔ مکہ معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے۔

اردوان نے واضح کیا کہ کسی حملے کی صورت میں ردعمل کا طریقہ متاثرہ ملک کی درخواست اور ضرورت کے مطابق طے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تعاون میں انٹیلی جنس معلومات، لاجسٹک مدد اور گولہ بارود کی فراہمی شامل ہوسکتی ہے، جبکہ خطرے کی نوعیت اور شدت کے مطابق وسیع تر فوجی تعاون بھی زیر غور آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عملی اقدامات کا فیصلہ متعلقہ سیاسی اور عسکری ادارے کریں گے، اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ کسی رکن ملک پر حملہ ہوتے ہی ترکی کی فوجی مداخلت خودکار طور پر شروع ہوجائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button