ہرمز سے امریکی بحری بیڑہ پیچھے ہٹ گیا؟ پاسداران انقلاب کا بڑا دعویٰ

تہران (جانو ڈاٹ پی کے) ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر دور چلے گئے ہیں، جسے انہوں نے ایرانی فوج کی کامیابی قرار دیا ہے۔حسین محبی کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے پیش کی گئی سات شرائط پوری ہونے تک واشنگٹن کے ساتھ محاذ آرائی جاری رہے گی۔ ایران کی سات شرائط میں جنگ کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانا، تیل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کرنا اور ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ خلیج فارس میں پہلے امریکی بحری جہازوں کی بڑی تعداد موجود تھی، تاہم اب امریکی جنگی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر فاصلے پر ہیں۔ یہ دعویٰ ایرانی حکام کے بیانات پر مبنی ہے اور آزاد ذرائع سے اس کی مکمل آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی
حسین محبی نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران جنگ کا جغرافیائی دائرہ تبدیل کرسکتا ہے اور مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایسی فوجی صلاحیتیں بھی موجود ہیں جنہیں اب تک استعمال نہیں کیا گیا، جبکہ تہران اپنے مخالفین کی جانب سے نشانہ بنائے گئے اہداف کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حسین محبی نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنے مطالبات کی تکمیل سے مشروط رکھے گا اور امریکی فوجی دباؤ کم ہونے کی صورت میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے پر بات ہوسکتی ہے۔
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ حالیہ ایرانی تجاویز میں امریکا سے فوجی دباؤ کم کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔



