ٹرمپ نے ایرانی امن منصوبہ مسترد کردیا، عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا

نیویارک (جانو ڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبہ مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی پر دباؤ برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے دسمبر فیوچرز کی قیمت 0.36 جی ایم ٹی تک بڑھ کر 105.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 93.11 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکا کے ساتھ فوجی تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ تہران نے تصدیق کی تھی کہ یہ منصوبہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایرانی روڈ میپ مسترد کرنے کا اعلان کیا، تاہم اتوار کو ’Axios‘ کو دیے گئے فون انٹرویو میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید مذاکرات کریں گے۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد نے ہفتے کی صبح تصدیق کی کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز کو روک لیا گیا۔
مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں بحالی
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 7.9 فیصد کم ہوئی۔ ڈبلیو ٹی آئی میں کمی کی ایک وجہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر ممکنہ پابندی سے متعلق خدشات تھے۔
دوسری جانب شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کپلر‘ کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک سے ستمبر میں خام تیل کی برآمدات بڑھ کر 12.8 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس بحالی میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی کا اہم کردار ہے، جہاں رواں ماہ تقریباً 7.4 ملین بیرل یومیہ تیل کی ترسیل متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے عسکری حملوں کے نتیجے میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد اپنی برآمدات بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے مشرقی ساحل پر واقع راس تنورہ ٹرمینل کی جانب منتقل کردی ہیں۔



