پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث تیز،فیصلہ کیسے ہوگا؟

لاہور(سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ  پی کے)پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آئینِ پاکستان میں درج ہے، اور اس کے لیے محض حکومتی اعلان کافی نہیں ہوتا بلکہ آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔

نئے صوبے کے قیام کا آئینی طریقہ کار

  1. آئینی ترمیم کا بل
    • قومی اسمبلی یا سینیٹ میں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا جاتا ہے۔
  2. متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری
    • اگر کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی یا اس سے نیا صوبہ بنایا جا رہا ہو، تو آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
    • اس منظوری کے لیے صوبائی اسمبلی کے کل ارکان میں سے کم از کم دو تہائی (2/3) اکثریت درکار ہوتی ہے۔
  3. پارلیمنٹ کی منظوری
    • اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں بھی دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم منظور ہونا لازمی ہے۔
  4. صدرِ پاکستان کی توثیق
    • پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بل صدرِ پاکستان کے دستخط سے قانون بن جاتا ہے۔

نیا صوبہ بننے کے بعد

اس کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر متعدد انتظامی اقدامات کیے جاتے ہیں، مثلاً:

  • صوبائی دارالحکومت کا تعین
  • گورنر اور نگران انتظامیہ کا تقرر
  • نئی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کا تعین
  • مالی وسائل اور اثاثوں کی تقسیم
  • سرکاری محکموں اور ملازمین کی تنظیم نو
  • الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیاں اور انتخابات

کیا ریفرنڈم ضروری ہے؟

آئینِ پاکستان میں نئے صوبے کے قیام کے لیے ریفرنڈم لازمی نہیں ہے۔ تاہم اگر حکومت مناسب سمجھے تو عوامی رائے جاننے کے لیے مشاورتی ریفرنڈم یا عوامی مشاورت کر سکتی ہے، مگر یہ آئینی تقاضا نہیں۔

ماضی میں تجاویز

پاکستان میں وقتاً فوقتاً کئی نئے صوبوں کی تجاویز زیرِ بحث آتی رہی ہیں، جن میں

  • جنوبی پنجاب
  • بہاولپور صوبہ
  • ہزارہ صوبہ

تاہم اب تک ان میں سے کوئی بھی تجویز آئینی مراحل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔

پاکستان میں نیا صوبہ بنانے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ تینوں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئینی ترمیم کی منظوری ضروری ہوتی ہے، جس کے بعد صدرِ پاکستان کی توثیق سے نیا صوبہ قانونی حیثیت حاصل کرتا ہے۔

ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حکومتی سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے، جبکہ وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون آئینی و قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق  نئے صوبوں کے قیام  کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 پر عملدرآمد لازم قرار  دیا گیاہے، کےپی اور پنجاب اسمبلیوں کی پہلے سے منظور شدہ قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں، صوبائی اسمبلی سے قبل سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرنا پڑےگی،  نئے صوبوں کے لیے  کم ازکم آئین کے چار آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہو گی ۔

 پارلیمانی ذرائع  کے مطابق آئین کے آرٹیکل  1-51-59 اور 106 میں ترمیم کرنا ہو گی ، صوبوں کی تعداد سینیٹ، قومی صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں ردوبدل کرناہوگا، خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا بھی نئے سرے سے تعین کرنا ہو گا ،  آرٹیکل 239 کے تحت  بل سینیٹ یا قومی اسمبلی میں سےکسی ایک اجلاس میں  پہلےپیش ہوگا۔

سینیٹ،قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے منظوری کے بعد بل صدر کے بجائے متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھیجنا ہو گا، آرٹیکل 239 کے تحت صوبائی اسمبلی کو بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہو گا ، سینیٹ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سےدو تہائی اکثریت سےمنظوری پرہی نیا صوبہ بن سکےگا۔

صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد بل توثیق کے لیے صدرمملکت کو بھیجا جائے گا ، صدرمملکت کی منظوری سے نئے صوبوں کے قیام پر کارروائی کا آغاز ہو گا ، صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے بل منظور نہ کر سکی توساری کارروائی غیر موثر ہو جائےگی۔

مزید خبریں

Back to top button