نیتن یاہو کے’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کہنے پر برطانیہ برہم، بیان کو ناقابلِ قبول قراردیدیا

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانوی حکومت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے برطانیہ کو’’اسلامی جمہوریہ‘‘ قرار دینے والے بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ نے نیتن یاہو کے ریمارکس کو ’’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ اسرائیلی حکومت کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران برطانیہ کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی میں برطانوی صحافیوں نے 1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کی، تاہم ان کے بقول آج کے برطانیہ میں ایسا رویہ نظر نہیں آتا۔

اسی گفتگو میں انہوں نے برطانیہ کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ سے تشبیہ دی، جس پر برطانوی حکومت نے شدید اعتراض کیا۔

اسرائیلی حکومت کی وضاحت

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے بعد میں برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو کے بیان کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم دراصل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ماضی میں دیے گئے ایک تبصرے کا حوالہ دے رہے تھے۔

وینس نے 2024 میں برطانیہ کے حوالے سے اسی نوعیت کا ایک متنازع بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی رجحانات کو اسلام پسندی سے جوڑا تھا۔

برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی

نیتن یاہو کا تازہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی جنگ اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک نے گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا، جس پر اسرائیلی حکومت نے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ برطانوی قیادت کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی وقتاً فوقتاً تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھی اسرائیل کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسی کو زیادہ سخت بنانے کے اشارے دیے ہیں۔

انہوں نے ماضی میں کہا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی مقبوضہ علاقوں کی بستیوں سے آنے والی بعض اشیا کی تجارت پر پابندی کے امکان پر غور کرسکتا ہے۔

پس منظر: غزہ جنگ کے بعد یورپ میں اختلافات

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یورپی ممالک میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اختلافات بڑھتے گئے ہیں۔ جہاں امریکا اسرائیل کا اہم اتحادی رہا ہے، وہیں کئی یورپی حکومتوں نے غزہ میں انسانی صورتحال، فلسطینی ریاست اور اسرائیلی پالیسیوں پر زیادہ کھل کر تنقید کی ہے۔

نیتن یاہو اس سے قبل بھی یورپ میں مسلم آبادی میں اضافے کو اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی سیاسی مخالفت سے جوڑتے رہے ہیں۔ دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button