3 بار موت کے تجربے میں ایک ہی پراسرار منظر دیکھا،ناسا کی خاتون سائنسدان کا دعویٰ

نیویارک(جانوڈاٹ پی کے)ناسا کی خاتون سائنسدان نے زندگی میں تین بار موت کا مزہ چکھا اور تینوں بار ایک ہی چیز دیکھی جو انتہائی پراسرار تھی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ناسا میں کام کرنے والی خاتون سائنسدان 55 سالہ انگرڈ ہونکالا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے زندگی میں تین بار موت کا مزا چکھا اور ہر بار انہوں نے ایک جیسا منظر دیکھا۔

رپورٹ کے مطابق انگرڈ ہونکالا کا کہنا ہے کہ اس نے 2 سال، 25 سال اور 52 سال کی عمر میں موت کا تجربہ کیا ہے۔ انہیں تینوں بار موت کا تجربہ مختلف طریقے سے ہوا لیکن اس کے نتیجے میں احساسات تینوں بار یکسان تھے۔

ہونکالا نے بتایا کہ ان کا پہلی بار سامنا دو سال کی عمر میں ہوا جب وہ بوگوٹا، کولمبیا میں اپنے گھر میں برفیلے پانی کے ٹینک میں گر گئی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں سانس بند ہوتا اور گھبراہٹ ہوئی اور اس کے بعد پھر یکدم گہرا سکون چھا گیا، خوف اور گھبراہٹ کے بجائے مجھے خاموش کا زبردست احساس ہوا۔

خاتون سائسندان نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ میری روح جسم سے علیحدہ ہو گئی ہو اور میں نے اپنے جسم کو پانی میں بے جان تیرتے دیکھا۔ اس وقت میں بچے کی طرح محسوس نہیں کر رہی تھی بلکہ خالص شعور، بیداری کے ساتھ خود کو روشنی کے میدان میں محسوس کر رہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں سب سے غیر معمولی مرحلہ وہ تھا جب وہ اپنی ماں کو کئی بلاکس کے فاصلے سے دیکھ سکتی تھی اور کسی طرح بغیر بولے اس سے بات کر سکتی تھی۔

ہونکالا نے مزید بتایا کہ اس کے بعد جب وہ 25 سال کی تھی تو موٹر سائیکل حادثے میں موت کا دوسری بار تجربہ ہوا اور اس کے بعد 52 سال کی عمر میں جب سرجری کے دوران اس کا بلڈ پریشر انتہائی گر گیا تو تیسری بار موت کا مزا چکھا۔

خاتون نے دعویٰ کیا کہ دونوں بار اس کے محسوسات وہی تھے جو دو سال کی عمر میں ہوئے تھے۔ اس واقعے نے اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اس لمحے کے بعد سے، مجھے موت کا خوف نہیں رہا۔

ہونکالا کا کہنا ہے کہ اب وہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ موت کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک جانب سے دوسری جانب ایک تبدیلی ہے۔ موت کسی وجود کے خاتمے کی طرح محسوس نہیں ہوتا، یہ شعور کے تسلسل میں منتقلی کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button