تھرپارکر میں70فیصد سے زائد افراد کے پاس زمین کے دستاویزات نہیں، کچی آبادیوں کو لیز دینے کا عمل جاری ہے:نجمی عالم

کراچی/تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے سندھ اسمبلی میں تھرپارکر کے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور کچی آبادیوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔

سریندر ولاسائی نے کہا کہ تھرپارکر کے سات شہروں کی آبادی گزشتہ 25 سال کے دوران تین سے چار گنا بڑھ چکی ہے۔ مٹھی، چھاچھرو، کلوئی، ڈپلو، نگرپارکر سمیت دیگر شہروں میں آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا تھرپارکر کے بڑھتے ہوئے شہروں میں کچی آبادیوں کا سروے کیا جا رہا ہے اور کیا کچی آبادیوں کے سروے یا نئے پروگرام کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے؟

سوالات کے جواب میں نجمی عالم نے بتایا کہ تھرپارکر میں 70 فیصد سے زائد افراد کے پاس زمین کے دستاویزات موجود نہیں، جبکہ عمرکوٹ شہر میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے پاس زمینوں کے دستاویزات نہیں ہیں۔

نجمی عالم نے کہا کہ تھرپارکر میں کچی آبادیوں کو لیز دینے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھرپارکر کے ایم پی ایز سے پیر کے روز ملاقات ہوگی، جبکہ میرپورخاص ڈویژن میں زمینوں کے دستاویزات مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں لوگوں کی زمینوں کو دستاویزی شکل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تھر کے لوگوں کو ان کی زمینوں کے مالکانہ حقوق دلائے جائیں گے۔ لوگوں کو ان کی زمینوں کا مالک بنانا پارٹی اور چیئرمین کا وژن ہے۔

مزید خبریں

Back to top button