دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو سنائی دینے والی پراسرار آواز کا ڈراؤنا سچ

نہال معظم
دنیا میں کچھ راز ایسے ہیں جو جتنا سلجھنے کے قریب آتے ہیں، اتنے ہی پراسرار محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ایسا ہی ایک عجیب معما ایک ایسی آواز ہے جسے دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے لوگ برسوں سے سننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے کئی افراد میں سے صرف ایک شخص کو یہ آواز سنائی دے سکتی ہے، جبکہ باقی لوگوں کو مکمل خاموشی محسوس ہوتی ہے۔
اس پراسرار آواز کو “The Hum” یا “Taos Hum” کہا جاتا ہے۔ اسے سننے والے عام طور پر اسے کسی دور چلنے والے بھاری ڈیزل انجن، ٹرک، جنریٹر یا مسلسل گونجتی مشین جیسی آواز قرار دیتے ہیں۔ بعض افراد کے مطابق یہ آواز رات کے سناٹے میں زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے، جبکہ کچھ لوگ اسے دن رات مسلسل محسوس کرتے ہیں۔
اس کہانی کے سب سے مشہور ابواب میں سے ایک برطانیہ کے شہر برسٹل سے جڑا ہے، جہاں 1970 کی دہائی میں بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک مسلسل گہری گونج کی شکایت کی۔ بعد میں دنیا کے مختلف علاقوں، جن میں امریکہ کا ٹاؤس، آسٹریلیا اور دیگر مقامات شامل ہیں، سے بھی ایسی ہی شکایات سامنے آئیں۔ برسٹل کے معاملے میں فیکٹریوں، صنعتی پنکھوں، ٹریفک اور دیگر مشینی ذرائع کو ممکنہ وجہ سمجھا گیا، مگر کوئی ایک ایسا ذریعہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوسکا جو تمام شکایات کی وضاحت کرسکے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کہانی مزید خوفناک بن جاتی ہے۔
کئی لوگوں نے سمجھا کہ شاید ان کے آس پاس کوئی ایسی مشین یا صنعتی سرگرمی موجود ہے جس کی انتہائی کم فریکوئنسی آواز صرف چند حساس افراد ہی سن سکتے ہیں۔ کہیں زیرِ زمین پائپوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا، کہیں صنعتی آلات کو، اور کہیں اس کے پیچھے خفیہ تجربات تک کی کہانیاں گھڑی گئیں۔ لیکن جب مختلف مقامات پر اس آواز کو ریکارڈ کرنے اور اس کا بیرونی ذریعہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تو ہر معاملے میں کوئی واضح جواب نہیں مل سکا۔
پھر سائنس نے اس معمے کا رخ انسان کے اپنے جسم کی طرف موڑ دیا۔
2016 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 162 ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جو “Hum” سننے کا دعویٰ کرتے تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد نے آواز کو ٹرک کے دور سے چلنے والے انجن، بجلی کے ٹرانسفارمر یا کسی بھاری مشین کی گونج جیسا بیان کیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بہت سے افراد کے کان اور سماعت معمول کے مطابق تھے۔ تحقیق نے یہ امکان پیش کیا کہ کم فریکوئنسی کی یہ آواز بعض افراد میں ٹنائٹس کی ایک غیر معمولی شکل ہوسکتی ہے۔
اور اب اس پراسرار آواز کے بارے میں ایک نئی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
2026 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں کم فریکوئنسی کی ایسی آواز محسوس کرنے والے افراد کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد میں آواز کی فریکوئنسی عموماً تقریباً 50 ہرٹز کے آس پاس پائی گئی۔ محققین کو ان کی سماعت میں ایسی غیر معمولی حساسیت نہیں ملی جو یہ ثابت کرسکے کہ وہ عام انسانوں سے کہیں زیادہ باریک بیرونی آوازیں سن سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج نے اس امکان کو مضبوط کیا کہ بہت سے کیسز میں یہ آواز کم فریکوئنسی ٹنائٹس کی وجہ سے محسوس ہوسکتی ہے۔ تاہم سائنس دانوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر کیس میں کسی بیرونی صوتی ذریعے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔
یعنی جس آواز کو ایک شخص باہر چلنے والی کسی پراسرار مشین سمجھ رہا ہوتا ہے، ممکن ہے اس کا اصل سرچشمہ باہر کی دنیا میں ہو ہی نہ۔
یہ آواز کان اور دماغ کے پیچیدہ سماعتی نظام میں پیدا ہونے والے ایسے سگنلز سے متعلق ہوسکتی ہے جنہیں انسان بیرونی آواز کے طور پر محسوس کرتا ہے۔ ایک اور تحقیق نے اندرونی کان کے کوکلیا اور ویسٹیبیولر نظام کے درمیان ممکنہ برقی اور صوتی تعامل کو بھی اس انتہائی کم فریکوئنسی والی گونج کی ممکنہ وضاحت قرار دیا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم راز اب بھی باقی ہے۔
سائنس ابھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ دنیا کے ہر “Hum” کی وجہ ایک ہی ہے۔ کچھ مقامات پر واقعی انتہائی کم فریکوئنسی کی بیرونی آوازیں موجود ہوسکتی ہیں، جبکہ دوسرے افراد میں یہی تجربہ ٹنائٹس یا سماعتی نظام کے اندر پیدا ہونے والے سگنلز سے متعلق ہوسکتا ہے۔ اسی لیے “The Hum” کا معمہ مکمل طور پر حل شدہ داستان نہیں بلکہ اب بھی تحقیق کا موضوع ہے۔
شاید سب سے ڈراؤنی بات یہ نہیں کہ دنیا میں کوئی نامعلوم مشین رات کے اندھیرے میں مسلسل گونج رہی ہے۔
اصل خوفناک امکان یہ ہے کہ کبھی کبھی انسان جس آواز کو اپنے گھر، شہر یا زمین کے اندر سے آتی ہوئی سمجھتا ہے… اس کا کوئی بیرونی وجود ہی نہ ہو۔
آواز شاید باہر نہیں، کہیں ہمارے اپنے سماعتی نظام کے اندر گونج رہی ہو۔



