رجب طیب اردوان کا سلامتی کونسل میں ویٹو اختیار ختم کرنے اور جامع اصلاحات کا مطالبہ

نیو یارک (ویب ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو کا اختیار ختم کرنے کی تجویز پیش کردی۔
بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ عالمی نظام کو موجودہ دور کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں کی بہتر عکاسی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق حالیہ وبائی امراض، توانائی کے بحران، عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور علاقائی تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل چند ممالک کے دارالحکومتوں میں ہونے والے فیصلوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔
ترک صدر نے کہا کہ سلامتی کونسل اب بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد تشکیل پانے والے عالمی ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، اس لیے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ نظامِ نمائندگی کی ضرورت ہے۔
اردوان کا کہنا تھا کہ انقرہ کا مؤقف ’’دنیا 5 سے بڑی ہے‘‘ عالمی نظام میں ذمہ داریوں کی وسیع تر تقسیم کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں صرف نئے مستقل ارکان کا اضافہ ویٹو اور فیصلہ سازی کے اختیار کے ارتکاز کا مسئلہ حل نہیں کرے گا۔
ترک صدر نے تجویز دی کہ کسی بھی ملک کو مستقل طور پر عالمی برادری کی اکثریت کی رائے کو روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے اور سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا موجودہ نظام ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
اردوان کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے ایک مقررہ مدت کے لیے منتخب کیے جانے چاہئیں، جبکہ دوبارہ انتخاب کے خواہش مند ممالک کو جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن، معاشی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف خطوں کے ممالک کو مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔



