سندھ حکومت کا نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ، 100 سے زائد کمپنیوں سے رابطے

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ حکومت نے طلبہ اور فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں 100 سے زائد کمپنیوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ آئی ورک فار سندھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوانوں کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور مارکیٹ کی ضروریات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق پلیٹ فارم کو اب تک 51 لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد وزٹ کر چکے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ایک لاکھ 36 ہزار 547 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اس سے منسلک کمپنیوں کی تعداد 721 ہوچکی ہے۔ پلیٹ فارم کے ذریعے اب تک 31 ہزار 270 ملازمتوں کے مواقع پوسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے 24 ہزار 766 اس وقت فعال ہیں۔

صوبائی وزیر کے مطابق مختلف ملازمتوں کے لیے امیدواروں کی جانب سے مجموعی طور پر 4 لاکھ 73 ہزار 339 درخواستیں جمع کرائی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم نوجوانوں اور آجر اداروں کے درمیان رابطے مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت روزگار کے مواقع بڑھانے کے ساتھ نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت آئی ورک فار سندھ پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک ہزار 800 سے زائد مختصر تربیتی کورسز تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق اب تک 4 ہزار 620 امیدوار اپنے تربیتی کورسز مکمل کر چکے ہیں، جبکہ 5 ہزار 789 امیدوار مختلف کورسز میں زیرِ تربیت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے نوجوانوں کو اپنی مہارتیں بہتر بنانے اور روزگار کے لیے خود کو تیار کرنے کے مواقع مل رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ پلیٹ فارم پر سرکاری اور نجی شعبے کی ملازمتوں کو خودکار طریقے سے شامل کرنے کا نظام بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی ابتدائی تیاری اور عمل درآمد کے لیے آئندہ ڈیڑھ سے دو ماہ کی مدت مقرر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع سے بروقت آگاہ کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ملازمتوں کے الرٹس فراہم کرنے کی سہولت متعارف کرانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button