مظفر نگر فسادات: 13 برس بعد بھی زخم تازہ، مسلمانوں پر تشدد کی تلخ یادیں برقرار

مظفر آباد(جانوڈاٹ پی کے) 27 اگست 2013 کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر مظفر نگر میں پیش آنے والے دلخراش واقعات نے بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مسلمان متاثر ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق ایک معمولی موٹرسائیکل حادثے کو مذہبی رنگ دیے جانے کے بعد مظفر نگر اور گردونواح میں کئی روز تک کشیدگی اور پرتشدد واقعات جاری رہے۔ فسادات کے دوران متعدد افراد جان سے گئے اور زخمی ہوئے، جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

متاثرہ علاقوں میں گھروں کو نذرِ آتش کرنے اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد سمیت سنگین واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں خاندانوں نے نقل مکانی کی۔

مظفر نگر فسادات کی تحقیقات کے دوران حکومتی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ جسٹس وشنو سہائے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں فسادات سے متعلق مختلف سیاسی و انتظامی عوامل کا جائزہ لیا۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ نے بھی کشیدگی میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ فسادات سے متعلق مقدمات میں بعض سیاسی رہنماؤں اور دیگر افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی ہوئیں۔

27 اگست 2013 کے مظفر نگر فسادات بھارتی معاشرے میں فرقہ وارانہ تقسیم، تشدد اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات آج بھی زندہ رکھتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button