مون سون بارشوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں تباہی مچا دی، مری میں لینڈ سلائیڈنگ،چار منزلہ عمارت زمین بوس

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)مون سون کی طوفانی بارشوں نے مری، راولپنڈی اور اسلام آباد میں معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا، مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے چار منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے، متعدد علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے اور ایک بچے کے برساتی نالے میں ڈوبنے کے واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق ملکہ کوہسار مری میں شدید بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جہاں موسلادھار بارش نے ہر طرف جل تھل کر دیا، مری ایکسپریس وے پر لکوٹ کے مقام پر ایک چار منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی، جبکہ جھیکا گلی، کوثر کالونی اور ڈھک کے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات خطرے کی زد میں آگئے۔

دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی موسلادھار بارش نے معمولِ زندگی متاثر کر دیا۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق صبح 4 بج کر 40 منٹ پر شروع ہونے والے بارش کے اسپیل کے دوران سب سے زیادہ 103 ملی میٹر بارش کچہری چکلالہ میں ریکارڈ ہوئی، بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد گوالمنڈی پر پری الرٹ نافذ کر دیا گیا۔

ادھر مصریال روڈ کی فرینڈز کالونی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے ایک بچہ برساتی نالے میں ڈوب گیا، شدید بارش نے راولپنڈی کے تاریخی راجہ بازار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حال ہی میں ماڈل بازار قرار دیے گئے علاقے میں نکاسی آب کا مؤثر انتظام نہ ہونے کے باعث پانی دکانوں میں داخل ہوگیا، جس سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ فوارہ چوک اور اطراف کی شاہراہیں بھی زیرِ آب آگئیں، جبکہ شہریوں کے مطابق موقع پر راولپنڈی میونسپل کارپوریشن کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا

ایم ڈی واسا عزیز اللہ خان کے مطابق صادق آباد، ڈھوک کالا خان، گوالمنڈی، ملت کالونی، جاوید کالونی، جان کالونی، مصریال روڈ، گرجا روڈ، دھمیال اور دیگر نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے کارروائیاں کی گئیں۔

بارش تھمنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح بتدریج کم ہو کر معمول پر آگئی، تاہم گوالمنڈی سمیت مختلف علاقوں میں پچاس سے زائد گھروں میں پانی داخل ہونے سے فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان کو شدید نقصان پہنچا، متاثرہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گوالمنڈی کے رابطہ نالوں سے تجاوزات ختم کرکے بارشی پانی کا راستہ کلئیر کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button