محمد احمد نے حرا مانی سے برسوں پرانی ناراضی کو اپنی غلطی قرار دیدیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان کے سینئر اداکار، مصنف اور ڈرامہ نگارسید محمد احمد نے اداکارہ حرا مانی سے برسوں تک جاری رہنے والی ناراضی پر خاموشی توڑتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے غصے میں ایک بڑی غلطی کی، جس پر آج انہیں شدید افسوس ہے۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے محمد احمد نے بتایا کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران حرا مانی سے اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد وہ ان سے اس قدر ناراض ہو گئے کہ ان کی معذرت بھی قبول نہیں کی۔ ان کے مطابق حرا مانی بارہا انہیں پیغامات بھیج کر معافی مانگتی رہیں، لیکن انہوں نے کبھی ان کا جواب نہیں دیا۔

محمد احمد نے انکشاف کیا کہ اس ناراضی کا اثر ان کے پیشہ ورانہ تعلقات پر بھی پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا جب انہوں نے حرا مانی کے ساتھ ایک ہی منظر میں کام کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مقبول ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ میں حرا مانی نے ان کی بیٹی کا کردار ادا کیا تھا، لیکن ناظرین اگر غور کریں تو دونوں کا ایک بھی مشترکہ سین موجود نہیں۔

اداکار کا کہنا تھا کہ حال ہی میں حرا مانی سے ملاقات نے انہیں اپنی سوچ پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے مطابق ملاقات کے دوران حرا مانی نے انہیں گلے لگایا اور آبدیدہ ہو گئیں، جس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ برسوں تک دل میں رنجش رکھنا اور بات چیت بند رکھنا درست فیصلہ نہیں تھا۔

محمد احمد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے صرف حرا مانی سے دوری اختیار نہیں کی بلکہ ان کے رویے کے بارے میں انڈسٹری کے دیگر افراد سے بھی منفی باتیں کرتے رہے، جس پر اب انہیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی آخر ایک انسان ہیں اور اب انہیں اپنی اس روش پر ندامت ہے، اسی لیے وہ کھلے دل سے مانتے ہیں کہ یہ ان کی بڑی غلطی تھی۔

واضح رہے کہ محمد احمد ماضی میں کئی انٹرویوز میں ایک اداکارہ کے ناروا رویے کا ذکر کرتے رہے تھے اور اس واقعے کو یاد کرکے جذباتی بھی ہو جاتے تھے، تاہم انہوں نے کبھی اس اداکارہ کا نام ظاہر نہیں کیا تھا۔ اب پہلی مرتبہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اداکارہ حرا مانی تھیں۔

محمد احمد کے اس اعتراف کو سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے۔ مداحوں اور شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اپنی غلطی کو عوامی سطح پر تسلیم کرنا بڑے حوصلے اور عاجزی کی علامت ہے، اور دونوں فنکاروں کے درمیان برسوں پرانی غلط فہمی کا خاتمہ خوش آئند پیش رفت ہے۔

مزید خبریں

Back to top button